Thursday, September 29, 2022

پاکستان جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم سرن کی رکنیت حاصل کرنیوالا پہلا ایشیائی ملک بن گیا

پاکستان جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم سرن کی رکنیت حاصل کرنیوالا پہلا ایشیائی ملک بن گیا
لاہور (92نیوز) جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم سرن نے پاکستان کو باقاعدہ طور پر اپنا ایسوسی ایٹ رکن بنا لیا ہے۔ پاکستان یہ رکنیت حاصل کرنے والا پہلا ایشیائی ملک ہے۔ پاکستان اور سرن کے درمیان ایسوسی ایٹ ممبر شپ کے معاہدے پر دسمبر دوہزار چودہ میں دستخط ہوئے تھے۔ اکتیس جولائی 2015ءکو جنیوا میں پاکستانی سفیر ضمیر اکرم کی جانب سے تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کو انسٹرومینٹ آف ریٹیفیکیشن کی فراہمی کے بعد پاکستان کی رکنیت کو باقاعدہ حیثیت مل گئی ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرن کی رکنیت ملنا پاکستان کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کی دلیل ہے۔ پاکستان پہلے ہی سرن‘کے اہم ترین منصوبے لارج ہیڈرون کولائیڈر میں قابل ذکر تعاون کر چکا ہے اور اب ایسوسی ایٹ رکن کی حیثیت سے وہ تنظیم کے تحت ہونے والی جدید سائنسی تحقیق سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس قسم کے اداروں اور منصوبوں سے تعلق جوڑنا ملک کے عوام کےلئے دوررس مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ سرن سے منسلک ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر حفیظ ہورانی نے 2012ءمیں غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں بتایا تھا کہ 1994ءمیں سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ طے پانے کے بعد 100 سے زائد پاکستانی سائنسدان سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔