Wednesday, September 28, 2022

پاکستان ایشیا کی ٹاپ 10 ایکسپورٹر فہرست سے کوسوں دور

پاکستان ایشیا کی ٹاپ 10 ایکسپورٹر فہرست سے کوسوں دور

کراچی ( 92 نیوز ) حکومتی دعوؤں کے مطابق ملکی معیشت ترقی کی پٹری پر گامزن ہے اور مستقبل میں پاکستان ایشین ٹائیگر کی صورت میں دنیا کے سامنے ہو گا لیکن معاشی اعداد و شمار کا یہ حال ہےکہ مستقبل کا معاشی ایشین ٹائیگر ایشیا کی ٹاپ ٹین ایکسپورٹر کی فہرست سے کوسوں دور ہے ۔
ایشیا کی ٹاپ ٹین ایکسپورٹر کی فہرست میں نمبر ایک کی کرسی پرچین 2.1 ٹریلین ڈالربرآمدات کے ساتھ براجمان ہے
بھارت 260.3 ارب ڈالر کے ساتھ 7 نمبرپرموجود ہے۔
دسویں نمبر پر 189.4 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کے ساتھ ملائیشیا ہے ۔
ایسے میں پاکستانی ایکسپورٹ ٹرپل فگر تو دور مشکل سے 20.44 ارب ڈالر پر کھڑی ہے ۔
ایک دہائی سے زائد کے عرصے میں پاکستانی ایکسپورٹ میں 27.3 فیصد یعنی صرف 4.35 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ۔
دوہزار پانچ میں پاکستان کی برآمدات 16.05 ارب ڈالر تھیں جو 2016 میں 20.44 ارب ڈالر پر آ گئیں ۔
اسی عرصے میں ویت نام کی برآمدات 445 فیصد بنگلہ دیش کی 276 فیصد اور بھارت کی 165 فیصد کا اضافہ ہوا ۔
دوہزار میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا جی ڈی پی ریشو 28.1 فیصد کے قریب تھا پاکستان کاجی ڈی پی آج بھی اسی سطح پر کھڑا ہے جبکہ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی ریشو 42.1 فیصد پر آ گیا ہے۔
پچھلے 6 برسوں میں پاکستان کی برآمدات میں 20 فیصد کی کمی ہوئی جو برآمدی شعبے کی خراب کارگردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ملکی برآمدات کا 70 فیصد انحصار کاٹن مینوفیکچرز، لیدر اور چاول پر ہے۔
حکومتی پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دہائی کے دوران اپنی برآمدات کو پانچ بڑی مارکیٹوں کے علاوہ دیگر ممالک تک رسائی ممکن ہی نہیں کر پائے ہیں۔