Tuesday, November 29, 2022

پاکستان اور امریکا میں مذاکرات، افغان امن عمل کی صورتحال پر تبادلہ خیال

پاکستان اور امریکا میں مذاکرات، افغان امن عمل کی صورتحال پر تبادلہ خیال

 اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان اور امریکا میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں افغان امن عمل اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمی خلیل زاد وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔ پاکستانی حکام کو اعتماد میں لیا اور سیکرٹری خارجہ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔

 پاکستان اور امریکہ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ اس کے بعد زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور افغان طالبان سے ہونے والے مذاکرات پر اعتماد میں لیا اور ملاقاتوں کو خوشگوار قرار دیا۔

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان فریقین کے مابین مذاکرات پر  پیشرفت کو سراہا اور واضح کیا کہ پاکستان، افغانستان میں سیاسی مصالحت کیلئے نیک نیتی سے تعاون جاری رکھے گا۔ افغان امن و استحکام، پاکستان سمیت پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔

دوسری طرف افغان امن عمل میں امریکہ کو دھچکہ لگ گیا۔ عبوری حکومت کے قیام پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔ افغان طالبان نے امریکی تجاویز مسترد کر دی۔ عبوری حکومت کیلئے زلمے خلیل زاد، افغان سیاستدان محمد عمر، افغان سابق وزیر عبدالستار سیرت کے نام مسترد کر دیئے اور افغان حکومت سمیت دیگر دھڑوں سے مذاکرات پر مشروط آمادگی بھی ظاہر کر دی۔ امریکا اور طالبان میں مذاکرات کا اگلا دور رواں ماہ شروع ہو گا۔