Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پانامہ کیس،وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل

پانامہ کیس،وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل
July 19, 2017

اسلام آباد(92نیوز)پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے لندن فلیٹس کی ملکیت منی ٹریل اور رقم فراہم کرنے والےفرد سے متعلق سوالات اٹھادیئے،عدالت نے ریمارکس دیئےکہ دیکھنا یہ ہےکہ بادی النظر میں نوازشریف کیخلاف کیس بنتا ہے یا نہیں وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔

تفصیلات کےمطابق منی ٹریل نہ کوئی دستاویزات وزیراعظم نوازشریف کےوکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ کو پھر قائل کرتے رہے کہ وزیراعظم کی ملکیت میں لندن فلیٹس ہیں نہ کوئی اورجائیداد خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم سے اثاثوں کانہیں پوچھا اگر کچھ ہوتا تو سوال ضرور کیا جاتا۔ وزیراعظم جن اثاثوں کے مالک نہیں ان سے انہوں نے انکار کیا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کسی جائیداد کے مالک ہیں نہ لندن فلیٹس سے ان کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔لندن فلیٹس ان کے صاحبزادوں کی زیرملکیت ہیں لیکن جے آئی ٹی نے ان فلیٹس کو پورے خاندان کی زیرملکیت ظاہر کیا۔لندن فلیٹس کا کوئی مالک ہے بھی تو وہ وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں۔ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث سےاستفسار کیا کہ اگر لندن فلیٹس نوازشریف کی زیرملکیت نہیں تو اصل مالک کون ہے؟ اگر حسن اور حسین کی ملکیت نہیں تو کس کی ملکیت ہے؟ ۔جے آئی ٹی سے ہٹ کر عدالت نے یہ معاملات دیکھنے ہیں۔ نیلسن، نیسکول اور منروہ کی ملکیت بتائی گئی لیکن دستاویزات نہیں دی گئیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا لندن فلیٹس میاں شریف کی ملکیت ہیں؟ ۔میاں شریف کی رحلت کے بعد نواز شریف کا نام مالک کے طور پر ہوگا؟ کیا فلیٹس کی ملکیت چھپانے کیلئے آف شور کمپنیاں بنائی گئیں؟ ؟؟ انہوں نے کہا کہ 6سال میں ایک ارب17کروڑ روپے نوازشریف کو ملے۔۔

وزیراعظم کےوکیل خواجہ حارث نے نیب آرڈیننس سیکشن 9کی شق 5کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن کے زیراستعمال اثاثے ہوں وہ بینامی دار ہوگئے ہیں جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ اگر ایک شخص فیکٹری لگالے لیکن اس کے نام نہیں تو کیا ہوگا؟؟لگتا ہے بے نامی دار کی تعریف کرتے وقت قانون میں غلطی ہوگئی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اثاثوں سے وابستہ فرد کی حیثیت بے نامی دار نہیں ہوگی یہ کیس 1993ءسے زیر ملکیت اثاثوں کا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاسوال یہ ہے کہ جائیدادیں کب خریدی گئیں؟ کس کس نے رقم فراہم کی؟؟ منی ٹریل کیا تھی؟؟؟۔۔سعودی عرب سے پیسہ باہر جانے کے ذرائع کیا تھے؟؟؟ فنڈز کے ذرائع کیا تھے؟؟

وزیر اعظم نے کہا تھاکہ وہ منی ٹریل اورتمام شواہد دیں گے ان تمام سوالوں کے جواب وزیر اعظم نے دینا تھےجے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم نمبر 4 میں ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق مواد شامل ہے۔

خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب!!آپ کو اپنے کارڈز شور کرانا چاہئیں تھے۔۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ دیکھنا ہے بادی النظر میں وزیراعظم کےخلاف کیس بنتا ہے یا نہیں؟؟یہ بھی دیکھنا ہے فیصلہ سپریم کورٹ نے کرناہے یا ٹرائل کورٹ نے۔