Monday, January 24, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پانامہ لیکس الزامات‘ وزیراعظم کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان

پانامہ لیکس الزامات‘ وزیراعظم کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان
April 5, 2016
اسلام آباد (92نیوز) پانامہ لیکس کے الزامات پر وزیراعظم نوازشریف نے تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس کی رپورٹس نے جہاں دنیا بھر میں کھلبلی مچا رکھی ہے وہیں پاکستان میں شریف خاندان کے بارے بھی خبریں سامنے آئیں جس پر وزیراعظم نے وضاحت کیلئے قوم سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں پہلی بار ذاتی حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے لیے انہیں اور ان کے خاندان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ الزامات پچیس سال سے دہرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا قیام پاکستان سے قبل ان کے والد نے کاروبار کا آغاز کیا۔ ان کے کاروبار کی ایک شاخ ڈھاکا میں بھی تھی جو سقوط ڈھاکا کی نذر ہو گئی۔ بعدازاں ذوالفقار بھٹو نے بھی ان کی لاہور میں موجود اتفاق فاونڈری پر قبضہ کرلیا جس سے ان کے بزرگوں کی جمع پونجی ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔ وزیراعظم نے کہا ان کے والد نے نئے عزم کے ساتھ 6 ادارے مزید قائم کرلیے۔ 1989ءمیں ان کی فیکٹری کاخام مال لانے والے جہاز کو مال اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی جس سے 50کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں بھی انہیں کاروبار میں نقصان برداشت کرنا پڑاحتیٰ کہ 14ماہ تک جیل میں بھی ڈالا گیا۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاون میں ان کا آبائی گھر بھی چھین لیا گیا۔ جلا وطنی کے دور میں ہی ان کے والد نے مکہ کے قریب ایک کارخانہ لگایا۔ سعودی عرب میں کارخانے کے لیے سعودی بینکوں نے قرضہ دیا۔ اس کے بعد اس کو فروخت کردیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ حسن نواز 1994ءسے لندن میں جبکہ حسین نواز 2000ءسے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ دونوں بچے ان ملکوں کے قوانین کے مطابق کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے قرضوں کی ایک ایک پائی ادا کی جن کی مالیت پونے 6ارب روپے ہے جبکہ ایک پیسہ بھی معاف نہیں کرایا۔ وزیراعظم نے کہا انہوں نے قومی خزانے میں کبھی خیانت کی نہ ذاتی کام کے لیے خزانہ استعمال کیا۔ الزامات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الزامات لگانے والے اس کمیشن کے سامنے جائیں اور الزامات ثابت کریں۔