Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پاناما کیس کا فیصلہ سننے کیلئے پوری قوم منتطر

پاناما کیس کا فیصلہ سننے کیلئے پوری قوم منتطر
July 24, 2017

اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ کی طرف سےپاناما کیس کےمحفوظ فیصلےسنائے جانے کا سبھی کوانتظار ہےاورقوم کی نظریں عدالت عظمیٰ پرلگی ہوئی ہیں کہ کب وہ تاریخی کیس کا بڑا فیصلہ سناتی ہے۔جبکہ جےآئی ٹی ارکان کوشاندار تحقیقات کرنے پرخوب پذیرائی مل رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وہ تاریخی ہفتہ آگیا جس کاسب کوانتظارہے،پانامہ کیس میں طاقتوروں کے احتساب کا وقت آگیا۔دوماہ میں تحقیقات کرنے والے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم  کےارکان نے دن رات انتھک محنت اورلگن سےجوپودہ لگایا اب اس کے پھل کھانے کاوقت ہےجے آئی ٹی کےارکان کوقوم کے طرف سےبھرپورپذیرائی مل رہی ہے۔۔عوام جےآئی ٹی کےارکان کوقوم کےہیرو قراردے رہی ہے۔

پاناما کیس کےفیصلے کےبعد پاکستان میں خود کو ہرطرح کے قانون سے بالاتر سمجھنے والے سیاستدان،بیوروکریٹس اور دیگراعلیٰ حکام قانون کی مضبوط گرفت میں آئیں گے۔اوروطن عزیز کی دولت  لوٹنے والوں کا بےرحم احتساب   کا راستہ ہموار ہو گا۔۔اورکوئی قانون سے بالاترنہیں رہے گا۔

تاہم اب بھی طاقتوروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ کھڑے کیا جا سکا  تو ملک میں کسی کرپٹ کے  احتساب کا خواب کبھی پورانہیں ہوگا۔ اگر سپریم کورٹ طاقتوروں کے احتساب کی روایت ڈالے گی  تو کرپٹ بیوروکریٹس بھی قانون کے نیچے آئیں گےاور طاقتورسیاستدان بھی پکڑے جاسکیں گے۔

پاکستانی تاریخ میں پہلی بارعدالت عظمیٰ  کے پانچ ججز اور جے آئی ٹی کے چھ ارکان نے کسی بھی قسم کے دباؤ  کو خاطر میں نہ لاتے ہوئےتیس برس سےحکمرانی کرنے والے  وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف  تاریخی جعل سازیوں ، بیرون ملک جائیدادوں پرمبنی ثبوتوں کےانبارسپریم کورٹ کے سامنے لا کررکھ دیے۔

سماعت کےدوران سپریم کورٹ نےوزیراعظم اوران کےخاندان کےارکان کو دفاع کا بھرپور موقع دیا،مگرٹھوس ثبوتوں کےباعث وزیراعظم غیرمحفوظ محسوس ہورہے ہیں اور کیس کی اگلی منزل واضح دکھائی دیتی تھی ۔۔

ماہرین کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہوگا جو اس ملک کی نئی سمت کا تعین کرے گا کہ اگر وزیراعظم کو سزا ہو سکتی ہے تو کسی بھی کرپٹ سیاستدان اور افسر کو بھی سز ا ہو سکتی ہے ۔اسی لئے قوم کی نگاہیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر لگی ہیں۔