Saturday, January 22, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پاناما کیس: عدالت نے جائیداد کا ریکارڈ پیش نہ کرنے کو خطرناک قرار دیدیا

پاناما کیس: عدالت نے جائیداد کا ریکارڈ پیش نہ کرنے کو خطرناک قرار دیدیا
December 7, 2016

اسلام آباد (92نیوز) پاناما لیکس کیس کی سماعت میں عدالت نے نوازشریف کے وکیل سے استفسار کیا ہے کہ بتایا جائے۔ وزیراعظم نے مریم نواز کے لیے زمین کب خریدی اور بیٹی نے رقم کب ادا کی۔  جسٹس عظمت نے سوال اٹھایا کہ رقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی اور وہی رقم بیٹی نے والد کو زمین کی مد میں واپس کر دی؟ عدالت نے چالیس سالہ ریکارڈ پیش نہ کرنے کو خطرناک قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا وزیراعظم کو الزامات پر وضاحت دینا ہو گی۔ عوام کے سامنے یہ کیوں کہا گیا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے اور سامنے لایا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو بات عدالت میں کہہ رہے ہیں بہتر ہوتا عوام کے سامنے کہتے، اب آپ وزیراعظم کی تقریر کو سیاسی قرار دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کا آج بھی ہنگامہ برپا ہے۔ سپریم کورٹ میں تندو تیز سوالات اور وکلا کے دلائل دیکھنے میں آئے۔ پانچ رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل کا آغاز کیا اور جواب پیش کرنا شروع کئے۔

اس موقع پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ مریم نواز کے زیرکفالت ہونے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ وزیراعظم نے مریم نواز کے لئے زمین کب خریدی جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ اراضی انیس اپریل 2011 کو خریدی گئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ اراضی کی رقم بیٹی نے والد کو کب ادا کی۔  رقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی اور وہی رقم بیٹی نے والد کو زمین کی مد میں واپس کر دی؟

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ زیرکفالت ہونے کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ مریم نواز کے گھر کا پتہ کیا ہے؟ سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز جاتی امرا میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں اور بھی خاندان کے افراد رہتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ کو اور مجھے بہتر علم ہے کہ ٹیکس گوشوارے کیسے جمع کرائے جاتے ہیں۔ ٹیکس ریٹرن کے مطابق مریم نواز کی قابل ٹیکس آمدن صفر ہے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ بیٹیوں کو سب لوگ تحائف دیتے رہتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ مریم نواز کے زیرکفالت ہونے کے معاملے میں آپ کے دلائل اب تک نکتہ حل نہیں کر پائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا وزیراعظم کو الزامات پر وضاحت دینا ہو گی، عوام کے سامنے یہ کیوں کہا گیا کہ تمام اثاثوں کا ریکارڈ موجود ہے اور سامنے لایا جائے گا۔ جو بات عدالت میں کہہ رہے ہیں بہتر ہوتا عوام کے سامنے کہتے، اب آپ وزیراعظم کی تقریر کو سیاسی قرار دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کےوکیل سلمان اسلم بٹ کے دلائل جاری ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پاناما پیپرز میں کہیں وزیراعظم کا نام نہیں آیا۔

 سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دبئی سٹیل مل  خسارے میں تھی تو فروخت کر کے واجبات کیسے ادا کئے۔ اس پر وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ نے کہا 40 سالہ پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں۔ دوبئی کے بنک پانچ سال سے زیادہ کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔

اس بات پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ سلمان بٹ اپنے موکل وزیراعظم کے دفاع کے لئے بہت خطرناک دلائل دے رہے ہیں۔ ایک عام آدمی کی زندگی کا ریکارڈ اور حیثیت اور کمپنی کا ریکارڈ اور حیثیت رکھتا ہے۔