Monday, December 5, 2022

پاناما کیس  : مریم نواز نے آمدنی جائیداد اور ٹیکس کی تفصیلات جمع کرادیں

پاناما کیس  : مریم نواز نے آمدنی جائیداد اور ٹیکس کی تفصیلات جمع کرادیں

 اسلام آباد(92نیوز)سچ تک پہنچیں گےیہ کہناہے سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس کیس میں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں اصل سوال ریکارڈ کا ہےدستاویزات طلب کرنا عدالت کااختیار ہے۔ عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل سے کہا کہ کچھ آپ کو بھی ثابت کرنا ہے۔ مریم نواز نے آمدنی جائیداد اور ٹیکس کی تفصیلات جمع کرادیں تمام الزامات کو مسترد کردیا۔

 تفصیلات کےمطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے آغاز پر اسحاق ڈار اور مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے مریم نواز کی آمدنی جائیداد اور ٹیکس کی تفصیلات جمع کروائیں جس میں بتایا گیا ہے کہ 2013 میں مریم نواز کی آمدنی 2 لاکھ 26 ہزار چالیس روپے 2014 میں 12 لاکھ 59 ہزار 132 ۔۔۔2015 میں 9 لاکھ 73 ہزار 243 روپے 2016 میں 4 لاکھ 89 ہزار 911 آمدنی تھی  تاہم سال 2016 میں ان کی آمدنی ایک کروڑ 16 لاکھ 38 ہزار 867 روپے تھی  یہ بھی بتایا گیا کہ جاتی امرا میں 5خاندان الگ الگ رہتے ہیں رائیونڈاسٹیٹ کی زیادہ تر جائیدادان کی دادی کے نام پرہے۔ انہوں نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق وہ آف شور کمپنیوں کی بینیفشل مالک ہیں نہ کسی نام نہاد پانامہ پیپرز کا حصہ۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ مریم نواز کے نام سے بے نامی فلیٹس 1993ءسے 1996ءکے درمیان خریدے گئے فلیٹس کے اصل مالک نوازشریف ہی ہیں دنیا کو دکھانے کےلئے انہوں نے بیٹی کو بینیفشری ظاہر کیا۔ 2011 میں مریم نواز نے چوہدری شوگر مل سے 4 کروڑ 23 لاکھ کاقرضہ لیا جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ آپ کی بات سے مریم نوازکے زیر کفالت ہونے کا معاملہ واضح نہیں ہوتا التوفیق کیس میں مریم نواز کا نام نہیں تھا کیا آپ کے پاس کوئی ایسی دستاویز ہے جس سے ثابت ہو کہ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ غلط ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جائیداد کی تفصیل سے متعلق کوئی دستاویز نہیں  تاہم مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ دستاویز درست ثابت کریں  ایک دستاویز میں مریم نواز سامبا بنک اور منروا کمپنی سے تعلق ظاہر کرتی ہیں جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا بے نامی جائیدادوں سے متعلق قانون موجود ہے تنازع صرف ٹرسٹی اور بینیفیشل مالک کا ہے، مریم اور حسین نواز کے ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط ہیں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اصل سوال ریکارڈ کا ہے معلوماتی خط میں مریم نواز کے ذرائع آمدن فیملی بزنس لکھا ہے دوسرے فریق کا موقف سن کر حکم دے سکتے ہیں کہ دستاویز پیش کریں۔ عدالت کا اختیار ہے کہ دستاویز طلب کرے۔ سچ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جسٹس اعجاز افضل نے نعیم بخاری سے کہا کہ آئین کے مطابق کچھ آپ کو بھی ثابت کرنا ہے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے شریف فیملی کے مالیاتی مشیرہارون پاشا کا انٹرویو بطور ثبوت عدالت میں جمع کرا دیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس انٹر ویو کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی نعیم بخاری اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔