Wednesday, November 30, 2022

پاناما لیکس کے بعد بہاماس لیکس نے 150 پاکستانیوں کو بے نقاب کردیا

پاناما لیکس کے بعد بہاماس لیکس نے 150 پاکستانیوں کو بے نقاب کردیا
[iframe id="https://www.youtube.com/embed/MzTdES3FFLg" align="right" autoplay="no" maxwidth="650"] اسلام آباد (92 نیوز) – پاناما لیکس کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مالیاتی اسکینڈل بہاماس لیکس سامنے آگیا ہے جس میں ڈیڑھ سو پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ بہاماس لیکس میں کن کن پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ امریکا اور کیوبا کے درمیان واقع بہاماس میں دنیا بھر کی سیکڑوں شخصیات کے خفیہ اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے جس میں ڈیڑھ سو پاکستانی بھی شامل ہیں۔ بہاماس لیکس میں دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے پر عقیدہ اسلامک بینک اور الطاف خانانی کی کمپنی کا نام سامنے آیا ہے، نائن الیون کے بعد عقیدہ اسلامک بینک پر امریکا اور اقوام متحدہ نے پابندیاں لگائی تھیں جو بعد میں اٹھا لی گئیں۔ بہاماس میں ایک لاکھ 75 ہزار آف شور کمپنیاں ہیں جن میں ایک آف شور کمپنی عبید الطاف خانانی کی ہے جن کے والد الطاف خانانی منی لانڈرنگ کے الزام میں امریکا میں قید ہیں۔ بہاماس لیکس میں کراچی کے معروف بلڈر محسن شیخانی اور تہمینہ درانی کی والدہ ثمینہ درانی کی بھی آف شور کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بہاماس لیکس میں سابق وفاقی وزیر محمد نصیر خان کے بیٹے جبران خان سمیت کئی بزنس مینوں کے نام بھی شامل ہیں عقیدہ اسلامک بینک بہاماس میں ایک آف شور کمپنی کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد بھی اس کے ڈائریکٹروں میں شامل ہیں۔ پروفیسر خورشید کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ بینک کے ڈائریکٹر رہے ہیں لیکن بینک میں ان کا کوئی مالیاتی شیئر نہیں تھا۔ بہاماس لیکس میں آنے والے نام ان پاکستانیوں کے ناموں کے علاوہ ہیں جو پاناما لیکس میں آئے ہیں۔