Wednesday, January 26, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پاناما لیکس پر کمیشن کی تشکیل، تحریک انصاف نے وقت مانگ لیا

پاناما لیکس پر کمیشن کی تشکیل، تحریک انصاف نے وقت مانگ لیا
December 7, 2016

اسلام آباد (92نیوز) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس پر کمیشن بنانے کے لئے فریقین سے رائے مانگ لی۔ چیف جسٹس کہتے ہیں کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بنے گا اور بااختیار ہو گا۔ وزیراعظم کے وکیل نے دبئی سٹیل ملز سے متعلق 40 سالہ ریکارڈ پیش کرنے سے معذرت کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کی عدم دستیابی کا موقف وزیراعظم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ جو دستاویزات تحریک انصاف اور شریف خاندان نے دی ہیں ان کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ لندن کے فلیٹس کی ٹرسٹ ڈیڈ خاندان نے دی اس پر درخواست گزار کو اعتراض ہے۔ دونوں فریقین کو اپنی جمع شدہ دستاویزات درست ثابت کرنا ہونگی۔ عدالت نے کمیشن کی تشکیل کے لئے فریقین کو مشاورت کے لیے آدھے گھنٹے کا وقت دیا اور کہا کہ اپنے اپنے موکل سے پوچھ کر بتائیں کہ کمیشن بنائیں یا خود فیصلہ کریں۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے مشاورت کے لئے وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری طرف سے کوئی دباﺅ نہیں۔ آرام سے مشورہ کریں۔ کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بنے گا۔ کمیشن کی رپورٹ ہمارے سامنے پیش کی جائے گی۔ دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے وزیراعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر دبئی مل خسارے میں تھی تو 2 ملین درہم بجلی کے واجبات دبئی الیکٹرک کمپنی کو کیسے ادا کئے گئے؟

سلمان بٹ نے کہا کہ وہ رقم طارق شفیع نے اقساط میں ادا کی جس پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھاکہ اس کا ریکارڈ پیش کریں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ 40 سالہ پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں۔ 1999 کے مارشل لاء کے بعد ہماری کمپنیوں کا ریکارڈ سیل کرکے قبضے میں لے لیا گیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنے موکل وزیراعظم کے دفاع کے لئے بہت خطرناک دلائل دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی تقاریر میں کہا تھا کہ ریکارڈ موجودہے۔ اگر موجود ہے تو پھر پیش کیوں نہیں کیا جا رہا۔

وزیراعظم کو الزامات پر وضاحت دینا ہو گی۔ جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ وزیراعظم کی کسی تقریر میں قطر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اصل میں قطر میں سرمایہ کاری کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقاریر سیاسی ہیں عدالتی بیان نہیں۔ ہر بات کی ذمہ داری وزیراعظم پرنہیں آتی۔ پاناما لیکس میں بھی ان کاکہیں ذکر نہیں جبکہ انہوں نے کسی جگہ دستخط بھی نہیں کئے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دادا اور پوتے کے درمیان ہونیوالی باتوں کا وزیراعظم کو علم نہیں۔

مریم نواز کی کفالت کے معاملے پر جسٹس عظمت سعید کاکہنا تھا کہ یہ معاملہ ابھی طے نہیں ہوا۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت میں مریم نواز اور نوازشریف کی والدہ شمیم اختر کے 2011ء سے لے کر اب تک کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جمع کرا دیں۔ کیس کی سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔