Thursday, October 6, 2022

پاناما لیکس : سپریم کورٹ نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دیدی

پاناما لیکس : سپریم کورٹ نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دیدی
اسلام آباد (92نیوز) پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی ادارہ نہیں، تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ آرٹیکل ون ایٹی فور تھری کے تحت سماعت کر رہے ہیں کوئی ٹرائل نہیں ہو رہا۔ تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ نے جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی تجویز بھی دے دی۔ سماعت دو گھنٹے کے وقفے کے ساتھ ایک بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کے حوالے سے دائر آئینی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بنچ کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔ تحقیقات کے لیے اگر کمیشن بنایا تو اس کے سربراہ کو سپریم کورٹ کے جج کا اختیار ہو گا۔ فریقین تحریری جواب دیں کہ کمیشن کے نتائج سے متفق ہونگے۔ ہمیں بلیک اینڈ وائٹ میں فریقین بتائیں کہ عدالتی کمیشن کی فائنڈنگ کو من و عن تسلیم کیا جائے گا۔ کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا تمام فریقین نے پاناما لیکس کے حوالے سے جواب جمع کرا دیا ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ نیب کے سوا کسی بھی فریق نے جواب جمع نہیں کرایا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ نے معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کیں جب کہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ کیا نیب کے پاس شواہد اکٹھے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ عوام شواہد ان کے پاس لے کر آئیں گے تو نیب کارروائی کرے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی نیب کے جواب پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے روزمرہ کارروائی سے انحراف کیوں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بڑا واضح پیغام مل گیا ہے کہ کوئی ادارہ اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔