Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پاناماکیس : جےآئی ٹی نے وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کےخلاف نیب ریفرنس کی سفارش کردی

پاناماکیس : جےآئی ٹی نے وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کےخلاف نیب ریفرنس کی سفارش کردی
July 10, 2017

اسلام آباد(92نیوز) پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی، ٹیم کے سربراہ نے رپورٹ کی جلد نمبر دس پبلک نہ کرنے کی استدعا کردی عدالت عظمیٰ نے ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزام میں چیئرمین ایس ای سی پی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، غلط خبر پر جنگ گروپ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا۔ حکومتی رہنماؤں کی تقاریر کا متن بھی طلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کےمطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3رکنی پانامہ عملدرآمد بنچ نے کیس کی سماعت کی جے آئی ٹی نے 10والیم پر مشتمل تحقیقات کی حتمی رپورٹ پیش کی۔ دوران سماعت عدالت نے پہلے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے معاملے پر حکومتی جواب کا جائزہ لیا۔ عدالت نے تصویر لیک کرنے والے کا نام منظر عام پر لانے کا حکم دیتے ہوئے حسین نواز کی درخواست نمٹا دی۔ ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی نے اپنے ماتحت عملے کو ڈرایا دھمکایاعدالت سے جھوٹ بولا ان کےخلاف آج ہی مقدمہ درج کیا جائے ۔۔

بنچ نے غلط خبرچھاپنے پر جنگ گروپ پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دی نیوز کی سٹوری براہ راست توہین عدالت ہے۔ایک اخبار بدستور غلط رپورٹنگ کررہا ہے۔ رپورٹر احمد نورانی نے دو مرتبہ جج سے رابطہ کیا گزشتہ دور میں وزیر اعظم نے جج سے رابطہ کیاتھا ۔ اسکا نتیجہ معلوم ہے؟؟۔۔عدالت نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد میڈیا کو دیئے جانے والے اشتہارات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان میر جاوید الرحمن اور احمد نورانی سے 7روز میں جواب مانگ لیا۔

عدالت نے حکومتی رہنماﺅں سعد رفیق آصف کرمانی اور طلال چوہدری کی جے آئی ٹی مخالف تقاریر کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کیا۔ دوران سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ واجدضیاءنے کہا کہ رپورٹ کے والیم نمبر10میں غیرملکی قانونی معاونت شامل ہےوہ بعد میں تحقیقات میں مددگار ہوگا۔ اسے عام نہ کیا جائے۔عدالت نے رپورٹ کے والیم نمبر 10کے سوا باقی جلدوں کی نقول فریقین کو فراہم کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ عدالت نے حکم دیا کہ جے آئی ٹی ممبران ا ور ان کے اہلخانہ کی سکیورٹی یقینی بنائی جائےکیس کی دوبارہ سماعت 17جولائی کو ہوگی۔ فریقین کے وکلاءاور جے آئی ٹی ممبران دوبارہ پیش ہونگے۔