Saturday, January 22, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پانامالیکس کا فیصلہ کن راؤنڈ شروع ، جےآئی ٹی رپورٹ کےبعد پاناما کیس کی پہلی ہنگامہ خیزسماعت

پانامالیکس کا فیصلہ کن راؤنڈ شروع ، جےآئی ٹی رپورٹ کےبعد پاناما کیس کی پہلی ہنگامہ خیزسماعت
July 17, 2017

اسلام آباد(92نیوز) پانامالیکس کا فیصلہ کن راؤنڈ شروع ، جےآئی ٹی رپورٹ کےبعد پاناما کیس کی پہلی ہنگامہ خیزسماعت ہوئی ،جس میں پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا ہے کہ  قطری خط  افسانہ ثابت ہونےکےبعد کہانی ختم ہوگئی ۔ نعیم بخاری کے سپریم کورٹ میں دلائل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ  اگر ضرورت پڑی تو جلد دس کو بھی کھول لیں گے۔۔

تفصیلات کےمطابق پاناما کیس میں اپنےدلائل کےدوران تحریک انصاف کےوکیل نعیم بخاری نےکہا کہ شریف خاندان نےجے آئی ٹی میں جعلی دستاویزات پیش کیں اس حوالے سےفوج داری مقدمہ بنتا ہے ، نعیم بخاری نےکہا کہ قطری خط  افسانہ ثابت ہونےکےبعد کہانی ختم ہوگئی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےاستفسارکیا کہ کیا قطری خط جعلی اور خودساختہ ہے،کیا جےآئی ٹی نےاپنی رپورٹ میں فنڈزکی گردش کا ذکرکیا؟  جسٹس اعجاز افضل نےاستفسار کیا کہ  کیا جےآئی ٹی دستاویزات کا سورس جانے بغیر انہیں درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن  نے ریمارکس دیئے کہ جےآئی ٹی کی تمام فائنڈنگ کوتسلیم کرنا ہمارے لیےضروری نہیں۔نعیم بخاری نے کہا کہ نوازشریف فیملی کے اثاثے آمدن سے زائد ثابت ہوئے ہیں ،حسن نواز اپنی کمپنیوں کےذرائع بتانےمیں ناکام رہے۔ جسٹس عظمت نے سوال کیا کہ اثاثےآمدن سے زائد ہونے کے نتائج کیا ہونگے؟ نعیم بخاری سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم نوازشریف کو عدالت میں بلایا جائے اور ان کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائےجبکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات نیب عدالت میں چلائے جائیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ کیا یہ بتایا گیا کہ فنڈز کہاں سے آئے؟ نعیم بخاری نےکہا کہ جےآئی ٹی کےمطابق حسن نواز کے پاس کاروبار کیلئےفنڈز نہیں تھے۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ ہیل میٹل اسیٹلمنٹ کےفنڈزکےذریعے نہیں بتائے گئےنوازشریف ہیل میٹل کےبینفشل مالک ہیں،  نوازشریف کو ان کےبیٹے کے مطابق سیاست کیلئے پیسے دیئے جبکہ نوازشریف نے 88 کروڑ مریم نواز کو تحفے میں دیئے۔

جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس میں کہا کہ بینیفشل مالک ہونے کا فرق نوازشریف پر اسی وقت پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ہوں گی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا دستاویزات قانون کےمطابق پاکستان منتقل ہوئیں۔ نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ شریف خاندان کےخلاف 1991 سے مقدمات زیر التوا ہیں، جس پرجسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس دیئےکہ جےآئی ٹی نے کہا ہے کہ ان مقدمات کی تحقیقات ابھی بھی جاری ہیں۔