Thursday, September 29, 2022

پارلیمنٹ ، سرکاری ٹی وی اور ایس ایس پی تشدد کیس، عمران خان کی درخواست خارج

پارلیمنٹ ، سرکاری ٹی وی اور ایس ایس پی تشدد کیس، عمران خان کی درخواست خارج

اسلام آباد ( 92 نیوز ) پارلیمنٹ ، سرکاری ٹی وی اور ایس ایس پی عصمت اللہ تشدد کیس میں عمران خان کی دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست خارج کر دی گئی ۔ عدالت نے ضمانت کےلئے 19دسمبر کو طلب کرلیا ۔ کپتان نے دوران سماعت پراسیکیوٹر پر طنز کے تیر برسا دیئے ۔ بولے یہ بھی جھوٹے ہیں اور ان کے لیڈرز بھی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کی جانب سے عدالتی دائرہ کار کےخلاف اور مقدمات سے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔
عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کہیں بھی دہشتگردی کا عنصر نہیں ملا ۔ عمران خان نے احتجاج کیا اور احتجاج دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ پارلیمنٹ کے گیٹ کو تو سکھوں نے بھی دھکا مار کر کھولا تھا ۔
پراسیکیوٹر چوہدری شفقات کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کارکنوں کو تشدد پر اکسایا جس کی ویڈیوز موجود ہیں ۔ ملزمان سے سوئے ، ڈنڈے ، غلیلیں اور بنٹے برآمد ہوئے ۔
بابر اعوان بولے کیا ڈنڈوں اور غلیلوں سے حملہ کرنا دہشتگردی ہے ۔ کیا بنٹے برآمد ہونے پرسزائے موت دی جا سکتی ہے؟؟۔ 11 گواہوں میں سے ایک گواہ نے بھی عمران خان کے خلاف بیان نہیں دیا ۔ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حکومتی وزراء نے عوام کو تشدد پر ابھارا ۔ اگر بیان پر دہشتگردی کے مقدمات بنانے ہیں تو حکومتی وزراءپر بھی مقدمات بننے چاہئیں۔
پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی ضمانت منظور نہیں ہونی چاہئے ۔ اس پر عمران خان طنزاً بولے کہ یہ سب جھوٹے ہیں۔
بعد میں عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی درخواست خارج کردی اور انہیں 19دسمبر کو ضمانت کےلئے طلب کرلیا۔