Wednesday, February 21, 2024

پارلیمنٹ اور مقننہ کی بجائے سارا کام چیف جسٹس کےہاتھ میں دے دینا چاہئے ، نواز شریف

پارلیمنٹ اور مقننہ کی بجائے سارا کام چیف جسٹس کےہاتھ  میں دے دینا چاہئے ، نواز شریف
April 4, 2018
اسلام آباد ( 92 نیوز ) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور مقننہ کی کوئی ضرورت نہیں ، سارا کام چیف جسٹس کے ہاتھ میں دے دینا چاہئے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ نسلوں سے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں،چیف جسٹس دودھ کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں ، بلوچستان میں ہونے والی تبدیلیاں مشکوک ہیں ۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اندر کی کہانی نہیں جانتا لیکن زرداری جو کام کر رہے ہیں وہ شرمناک ہیں ۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس ملاقات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی سے بات ہوگی تووہ آگاہ کردینگے ، چیف جسٹس کے کندھوں پر 18 لاکھ زیر التوا کیسز کا بوجھ ہے ، چیف جسٹس کہتے ہیں کہ ادارے کام نہیں کرتے اس لئے فارغ وقت میں جا کر دیکھنا پڑتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ کیا وزیراعظم کو بھی فارغ وقت میں جا کر کیسز کو دیکھنا چاہئے، لوگ فیصلوں کے انتظار میں ہیں اور چیف جسٹس صاحب دودھ کا معیار چیک کررہے ہیں، سارا کام چیف جسٹس کو سونپ دیا جائے ،پارلیمنٹ کی کیا ضرورت ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ ایک مشکوک شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا گیا، عمران خان بتائیں کیا ان کے لوگوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےلیے تیر پر مہر نہیں لگائی؟۔ الیکشن کے التوا کی گنجائش نہیں ،کسی نظریہ ضرورت کو قبول نہیں کیا جائیگا۔۔ سابق وزیر اعظم  کا کہنا تھا کہ انہیں اہلیہ کی عیادت کےلیے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی جب تک وہ وزیراعظم تھے تو لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی تھی، لوڈشیڈنگ کی کیا وجہ ہے وہ حکومت سے معلوم کرینگے۔