Thursday, December 8, 2022

ٹی بی اور ایڈز ایک ہی طرح کی خطرناک بیماریاں ہیں: عالمی ادارہ صحت

ٹی بی اور ایڈز ایک ہی طرح کی خطرناک بیماریاں ہیں: عالمی ادارہ صحت
جنیوا (ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ٹی بی کی بیماری اب ایڈز کی طرح ہی مہلک بن گئی ہے۔ اس بیماری سے 2014ءمیں گیارہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایک قابل علاج بیماری ہوتے ہوئے بھی تپ دق کے اعداد و شمار ناقابل قبول ہیں۔ ڈاکٹرز ودآﺅٹ بارڈر تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتہائی مایوس کن ہیں ہے اور ٹی بی کے خلاف بچاو¿ میں ناکامی کا اشارہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹی بی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ دنیا بھر میں تپ دق اور ایڈز سے متاثر ہو کر مرنے والے افراد کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ تپ دق بھی اب ایڈز کی سطح کی بیماری بن گئی ہے۔ خیال رہے کہ ٹی بی سے نئے متاثر ہونے والے مریضوں کا تعلق چین، بھارت، انڈونیشیا، نائیجریا اور پاکستان سے ہے۔ عالمی ادارہ صحت اگلے سال تپ دق کے خاتمے کے لیے اپنا لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہے جس کے مطابق 2030ءتک اس بیماری سے ہونے والی اموات کو 90 فیصد تک کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔