Wednesday, October 5, 2022

ٹیکس چوری پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ، صرف 0.5فیصد افراد ٹیکس دیتے ہیں: فنانشل ٹائمز کا پاکستان کے بجٹ پر تجزیہ

ٹیکس چوری پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ، صرف 0.5فیصد افراد ٹیکس دیتے ہیں: فنانشل ٹائمز کا پاکستان کے بجٹ پر تجزیہ
واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان کا وفاقی بجٹ 2015-16ءکل پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری پاکستان کی معیشت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کی بڑی تعداد خود ٹیکس دیتی ہے نہ ہی ٹیکس اصلاحات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان میں صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بھارت میں انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد دو سے تین فیصد ہے جبکہ چین میں یہ تعداد بیس فیصد ہے۔ اخبار کے مطابق ملک کے بڑے حصے میں ٹیکس ادائیگی کی شرح اتنی کم ہے کہ ٹیکس دفاتر بند کرکے حکومت بچت کر سکتی ہے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد فراڈ یا ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کرتی ہے۔ ٹیکس چوری کا بڑا اور بدنام طریقہ زرعی اراضی کی خریداری ہے۔ زراعت کا شعبہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ زرعی اراضی خرید کر زراعت سے آمدن زیادہ ظاہر کی جاتی ہے جبکہ دوسرے کاروبار میں آمدن کم یا خسارہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں زمینداروں کی اکثریت ہے جو زراعت پر ٹیکس کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حال ہی میں اچھی خبریں آئیں لیکن آئی ایم حکام ٹیکس چوری اور فراڈ کو معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کا کہنا ہے کہ گراس ڈومیسٹک پراڈکٹس میں ٹیکس کی شرح صرف دس سے گیارہ فیصد ہے جو بہت کم ہے، بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ فیڈرل ریونیو بیورو سالانہ ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لا رہا ہے جو قابل حصول ہدف کی نچلی ترین سطح ہے۔ یورپی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے حکمران طبقے کی ترجیحات میں ٹیکس وصولی شامل ہی نہیں اور وہ بیانات سے زیادہ کچھ نہیں کرتے۔