Thursday, January 27, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

ٹھٹھہ میں سانپوں کی سمگلنگ کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا

ٹھٹھہ میں سانپوں کی سمگلنگ کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا
January 31, 2016
ٹھٹھہ (92نیوز) ٹھٹھہ میںسانپوں کی سمگلنگ کا دھندہ عروج پر‘ سانپوں کے شکاری روزانہ بڑی تعداد میں سانپ پکڑ کر ملک اور بیرون ملک سمگل کرنے میں مصروف‘ محکمہ جنگلی حیات خاموش۔ تفصیلات کے مطابق مکلی ملک بھر میں دو حوالوں پہلا تاریخی قبرستانوں اور دوسرا سانپوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ مکلی اور ٹھٹھہ کے پہاڑی اور ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں نایاب نسل کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کوبرا‘ واسینگ‘ کورار‘ وائپر‘ رسیلی‘ کھپرا‘ لنڈی‘ سنگچور اور دیگر اقسام شامل ہیں۔ مکلی کے جوگی شکاری ہر مہینے ایک ہزار سے لیکر پندرہ سو سانپ پکر کر ملک اور بیرون ملک سمگل کر رہے ہیں۔ سانپ سے نکالا ہوا زہر زیادہ تر سانپ کے کاٹے کے علاج یا تریاق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال نصف ملین اموات کا سبب سانپ کا ڈسنا بنتا ہے۔ واضح رہے کہ سانپ کا زہر چند کاسمیٹکس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سانپوں کو پلاسٹک کی ٹوکریوں اور تھیلوں میں بند کر کے سمگل کیا جاتا ہے اور اس دوران کئی سانپ مر بھی جاتے ہیں۔ تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں سانپوں کی یہ قسم شوق سے کھائی جاتی ہے۔ ان سانپوں سے حاصل ہونے والے زہر کو مختلف ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سات کلو وز ن کے سانپ کی قیمت پچاس لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ ذرائع کاکہناہے کہ یہ سانپ عرب ریاستوں میں دوا کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں اور سال کے آخری دنوں میں ان کی سمگلنگ میں تیزی آجاتی ہے۔