Thursday, January 27, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

ٹریفک وارڈنز کا تنخواہ بحالی کیس،عدالت سیکرٹری خزانہ پنجاب ، آئی جی ‏پربرہم

ٹریفک وارڈنز کا تنخواہ بحالی کیس،عدالت سیکرٹری خزانہ پنجاب ، آئی جی ‏پربرہم
June 20, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) پنجاب کے ٹریفک وارڈنز  کی تنخواہوں کی بحالی سے متعلق کیس میں  جسٹس گلزار احمد سیکرٹری خزانہ پنجاب اور آئی جی پر برس پڑے، ریمارکس دیے کہ  ملک میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں، پولیس نظام فلاپ ہوچکا، زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں۔ سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد  نے سیکرٹری خزانہ پنجاب اور آئی جی پر شدید  برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ ملک میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں، پولیس کا نظام فلاپ ہوچکا ہے، پولیس آخر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے؟، بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں۔سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں۔ فکر صرف اس بات کی ہے کہ اپنے الاؤنس کیسے بڑھانے ہیں؟۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں مزید کہا کہ  زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں ، ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، لوگ گلے کاٹ رہے ہیں ،پولیس کہاں ہے؟، پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ ۔ صوبائی سیکرٹری خزانہ نے عدالت کوبتایا کہ منجمد ڈیلی الاؤنس بحال ہوگا اضافی بنیادی تنخواہ نہیں، سیکرٹری خزانہ کے اپنے بیان سے مکرنے پر عدالت نےشدید برہم کا اظہار کیا۔ جسٹس گلزاراحمد نے کہا  آپ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کھڑے کھڑے ہی بات سے مُکر گئے ،  پنجاب کا خزانہ آپکے ہاتھ میں ہے اور آپکو کچھ کام کا پتا ہی نہیں ، آپ صرف دفتر میں بیٹھ کر اپنے پیسے بنانے کی سوچتے ہیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو مزید تیاری کیساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کےلئے ملتوی کردی ۔