Saturday, November 26, 2022

ٹرمپ نے کانگریس کے انکار پر ایران پر حملے کا حکم واپس لیا

ٹرمپ نے کانگریس کے انکار پر ایران پر حملے کا حکم واپس لیا
واشنگٹن( 92 نیوز) امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملہ اور امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کی ڈیپوٹیشن کے احکامات واپس اس لئے واپس لئے کیونکہ امریکی کانگریس کے علاوہ کئی ریاستوں نے انکے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ فیصلے سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر یہ روش چل پڑی تو پھر ٹرمپ انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کرنے سے وائٹ ہاؤس کی ساکھ بُری طرح مجروح ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے دونوں احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلے عجلت میں کئے گئے کیونکہ اس سے امریکی مفادات اور امیج کو نقصان پہنچ سکتا تھا سعودی عرب اور اسرائیل مسلسل اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بجائے اس پر حملہ کر دیا جائے لیکن پینٹاگون کے بعض اعلٰی حکام اس کے حق میں نہیں ۔ اگر امریکی فضائیہ ایران کے بعض ٹھکانوں کو ٹارگٹ کرتی تو اس سے افغان مصالحتی عمل متاثر ہو سکتا تھا ۔امریکی اتحادی ممالک نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کو تحمل اور " میں نہ مانوں " پالیسی کو ترک کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ دوسری طرف نیویارک اور شکاگو سمیت کئی ریاستوں نے صدر ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ اگر امیگریشن حکام نے غیر قانونی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو وہ اسکی نہ صرف مخالفت کرینگے بلکہ ان ریاستوں کی پولیس امیگریشن حکام کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کریگی ۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس یوٹرن کو صدر ٹرمپ کی ناکامی قرار دیا ہے ۔