Saturday, October 1, 2022

ٹرمپ اور تھریسامے کے درمیان لفظی گولہ باری شدت اختیار کرگئی

ٹرمپ اور تھریسامے کے درمیان لفظی گولہ باری شدت اختیار کرگئی

واشنگٹن (92 نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک روز میں دو مرتبہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، پہلے مسلم مخالف ویڈیو ری ٹویٹ کی جو غلط ثابت ہوئیں، پھر ٹوئٹر پر برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے کی ہم نام کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز برطانیہ کی انتہا پسند جماعت بریٹن فرسٹ کی شئیر کردہ  تین مسلم مخالف ویڈیوز ری ٹویٹ کیں۔ اس حرکت  پر برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نے شدید  الفاظ میں مذمت کی اور ٹرمپ کو اس حرکت پر آڑے ہاتھوں لیا۔ امریکی صدر خود پر تنقید برداشت نہ کرسکے اور ٹریسا مے کی جگہ اُن کی ہم نام کو جوابی ٹویٹ داغ دیا۔

ٹریسا مے سکریونر بوگنور نامی علاقے کی رہائشی ہے اور ٹویٹر پر اُن کے چھ فالوورز ہیں۔ وہ اس غلط فہمی  پر خوب محظوظ  تو ہوئیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ کو کوئی بھی  قدم اٹھانے سے پہلے سوچنے کا مشورہ بھی دیا۔

ٹرمپ نے بعد میں ٹریسا مے کے اصل ٹویٹر اکاؤنٹ پر جواب تو دے دیا، لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ صارفین نے امریکی صدر کی غلطی پکڑ لی اور امریکی صدر کی خوب کلاس لی۔

کوئی ٹرمپ کی  بے وقوفی پر حیران تھا تو کسی نے انہیں برطانیہ کے معاملات  سے دور رہنے کا کہا۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی ٹوئٹر پر کسی اور کو  اپنی بیٹی ایوانکا سمجھ کر ٹیگ کرچکے ہیں۔