Friday, February 3, 2023

وہ علما چاند دیکھتے ہیں جنہیں پاس بیٹھا شخص دکھائی نہیں دیتا،فواد چودھری

وہ علما چاند دیکھتے ہیں جنہیں پاس بیٹھا شخص دکھائی نہیں دیتا،فواد چودھری
اسلام آباد(92 نیوز)وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ وہ علما چاند دیکھتے ہیں جنہیں پاس بیٹھا شخص دکھائی نہیں دیتا۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ رویت ہلال سے متعلق وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 5سال کاقمری کیلنڈر تیار کرلیا جو 15 رمضان کو کابینہ کو بھجوا یا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمٰن اور دیگر تمام علما کا احترام ہے ، وہ علما آج چاند دیکھتے ہیں جنہیں پاس بیٹھا شخص بھی دکھائی نہیں دیتا۔ سمجھ نہیں آتی جدید دوربین حرام جبکہ 100سال پرانی دور بین کو حلال قرار دیا جاتا ہے ،ہم قوم کے سامنے متبادل طریقہ کار رکھیں گے ۔

دنیا بھر میں چاند دیکھنے کے معاملات رضاکارانہ ہوتے ہیں ، فواد چودھری

اسلام آباد میں میڈیا یونیورسٹی کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں چین کی مدد سے 55 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کے 8 شعبے قائم کرینگے ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعات سالانہ35 ارب سے 40 ارب روپے ضائع کردیتی ہے ، اس طرح 13ارب روپے پی ٹی وی، 6 ارب روپے ریڈیو اور 85 کروڑ روپے اے پی پی پر خرچ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اطلاعات ایک ارب روپے سے زائد کے اشتہارات کا بجٹ بچا کر حکومت کو واپس کیا۔فواد چودھری نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے فریم ورک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 41 ڈویژنوں کے دس، دس سکولوں کو ماڈل سکول بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر ڈویژن کے 30 سکولوں میں نویں سے بارہویں کلاس تک سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریاں تیار ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ  لڑکیوں کیلئے سائنس وٹیکنالوجی کا خصوصی پروگرام لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ2022 میں پاکستان کا پہلا خلائی مشن بھیجا جائیگا۔ اگست میں اسلام آباد میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میلہ کر ائینگے اور پورے مہینے کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہ کے طور پر منانے کیلئے وزیر اعظم سے درخواست کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے 30 قصبوں کو منتخب کرکے وہاں صاف پانی فراہم کیا جائیگا اور کچرے سے توانائی کا منصوبہ 16 قصبوں میں شروع کرینگے ۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ این ٹی ایس کا جائزہ لینے کیلئے وزیر تعلیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جبکہ این ٹی ایس کو براہ راست وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہمارا فرض ہے کہ اپنی رائے دیں، اگلے 3 چار سال میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں واضح فرق ہوگا۔