Tuesday, December 6, 2022

وکی لیکس کے انکشافات امریکی سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ ہیں : سینیٹرجان مکین

وکی لیکس کے انکشافات امریکی سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ ہیں : سینیٹرجان مکین
واشنگٹن (ویب ڈیسک)وکی لیکس  کی جانب سے سی آئی اے پر ہیکنگ الزامات نے دنیا بھر میں تہلکہ مچارکھا ہے امریکہ میں معاملے کی فوجداری تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ وائٹ ہائوس کاکہنا ہے کہ سکینڈل میں ملوث افراد کو  سخت سزا ئیں دی جائیں گی  ری پبلکن سینیٹر جان مکین نے وکی لیکس کے انکشافات کو امریکی سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیدیا ۔ تفصیلات کےمطابق وکی لیکس  کی جانب سے منظرعام پرلائی جانے والی دستاویزات کے مطابق  سی آئی اے  سمارٹ فونز سے لے کر ٹی وی کے مائیکرو فونزتک کو ہیک کررہی ہے ،امریکہ  کے وفاقی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے شروع ہونیوالی  فوجداری تحقیقات میں دیکھا جائے گا کہ کس طرح فائلز وکی لیکس کی تحویل میں آئیں کیا خلاف ورزی سی آئی اے کے اندر سے ہوئی یا باہر سے۔ وائٹ ہائوس کے ترجمان شان سپائسر کاکہنا ہے کہ فوجداری تحقیقات کے بعد جو بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا اسے نشانہ عبرت بنادیا جائے گا۔  ڈیموکریٹک پارٹی کےسینئررہنماسینیٹرجان مکین کاکہنا ہے کہ وکی لیکس کے انکشافات کے بعد ہماری اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کرنے کا طریقہ کار  دشمن کے ہاتھ لگ گیا ہے اس سے ہماری قومی سلامتی دائو پر لگ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  سی آئی اے کے ہیکنگ کے مبینہ ہتھیاروں میں آئی فون ، آئی پیڈ، ونڈوز، اینڈرائڈ، ایپل کے آئی او سی آپریٹنگ سٹسم، او ایس ایکس، لینکس کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ روٹرز کو متاثر کرنے والے وائرس یا نقصان دہ سافٹ وئیر بھی شامل ہیں۔ ادھرجرمنی نے فرینکفرٹ میں قائم امریکی قونصل خانے کی جانب سے ہیکنگ میں ملوث ہونے کے الزام پر سخت ردعمل  دیتے ہوئے معاملے کی  مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔