Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

وفاقی کابینہ کی پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ کی پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری
April 21, 2020
 اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دیدی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ کابینہ اجلاس میں پاور سیکٹر انکوائری پورٹ پیش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دیدی۔ وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ پر کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے اسلام آباد میں سیلز ٹیکس خاتمے کرنے کی منظوری بھی دی۔ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان  کی ری اسٹرکچرنگ کی بھی  منظوری دی گئی۔ کورونا وائرس کے خلاف اقدامات پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ یاد رہے کہ 92 نیوز نے سب سے پہلے پاور سیکٹر میں کرپشن کی خبر بریک کی تھی جس میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے کا نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ٹیرف، فیول کھپت میں خرد برد، ڈالرز میں گارنٹڈ منافع سے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا تھا ۔ آئی پی پیز مالکان نے 350 ارب روپے غیرمنصفانہ طور پر وصول کئے تھے ۔ 15 فیصد کے برعکس پاور پلانٹس سالانہ 50 تا 70 فیصد منافع کمانے میں ملوث قرار پائے گئے تھے ۔ ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب روپے اضافی ظاہر کیے گئے تھے ۔ پاور پلانٹس نے دھوکہ دہی  کے ذریعے  نیپرا سے بھاری ٹیرف حاصل کیا تھا ، صرف کول پاور پلانٹس کی لاگت 30 ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر آئی پی پیز کے دفاع میں سامنے آگئے تھے ۔ عمران خان کی پالیسی کی بجائے آئی پی پیز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب کو خط لکھ کر مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر عمر ایوب کی سوچ بدلنے کی کوشش کی تھی ۔ ندیم بابر کے پاورپلانٹ، اورینٹ نے ایک سال میں 2 ارب روپے اضافی منافع کمایا تھا جبکہ ندیم بابر کا موقف تھا کہ وہ اورینٹ پاور میں حصہ دار ہیں جس نے 2 ارب نہیں صرف 16 کروڑ روپے فیول کھپت میں بچائے ہیں۔ ندیم بابر کا کہنا تھا کہ وہ انکوائری رپورٹ سے مایوس ہوئے ہیں۔ اپنے خط میں اُنہوں نے لکھا تھا کہ آئی پی پیز پر الزامات کی بجائے اعتماد کا ماحول بنائیں، صرف چند آئی پی پیز نے اضافی منافع کمایا ہے۔