Saturday, October 1, 2022

وفاقی کابینہ نے ممبرز آف پارلیمنٹ تنولاہ ، الاؤنسز ترمیمی بل 2020 کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے ممبرز آف پارلیمنٹ تنولاہ ، الاؤنسز ترمیمی بل 2020 کی منظوری دیدی
اسلام آباد ( 92 نیوز) وفاقی کابینہ نے ممبرز آف پارلیمنٹ تنخواہ و الاؤنسز ترمیمی بل 2020 کی منظوری دیدی، سینیٹ و قومی اسمبلی ارکان 25 بزنس کلاس ائیرٹکٹس حاصل کرسکیں گے، ایک رکن پارلیمنٹ کم ازکم سالانہ 8 لاکھ 75 ہزار روپے مالیت کا ووچر حاصل کر سکے گا، ارکان کیلئے اپنے حلقے سے سفر کرنےکی شرط بھی ختم کر دی گئی ۔ملکی خزانے پر سالانہ 30 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔ کفایت شعاری مہم پر گامزن وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے مطالبے پر انتہائی خاموشی کیساتھ ائیرٹکٹس کی مد میں کروڑوں روپے کی مراعات لینے کی راہ ہموار کردی ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی آغا حسن بلوچ کی جانب سے تیار کردہ بل کی تمام سیاسی جماعتوں نے تائید کی تو وفاقی کابینہ نے ممبرزآف پارلیمنٹ تنکواہ و الاؤنسز ترمیمی بل 2020کی منظوری دیدی۔بل میں ترامیم کو حتمی منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق وزارت پارلیمانی امور نے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور الاونسز1974کے ایکٹ کے تحت مقرر کی جاتی ہیں۔ اس ایکٹ کے  سکیشن 10کے تحت ارکان پارلیمنٹ  کو مفت سفری سہولت کیلئے 25بزنس کلاس ٹکٹس سالانہ حاصل کرنے کی اجازت ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے حلقے سے اسلام آباد پہنچتے ہیں۔اس کیساتھ ارکان پارلیمنٹ کو 3لاکھ روپے کا ووچر بھی فراہم کیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ ٹرین پر بھی سفر کرسکتے ہیں۔ ترمیم کے تحت قومی اسمبلی اور سینٹ کے  446 ارکان کو سالانہ 25 بزنس کلاس ائیرٹکٹس پر فیملی ممبرز کو  سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ارکان پارلیمنٹ 25 ائیرٹیکس کے مساوی رقم کا ووچر بھی وصول کرسکیں گے ،  ایک رکن پارلیمنٹ کم ازکم سالانہ 8لاکھ 75ہزار روپے مالیت کا ووچر حاصل کر سکے گا۔ ارکان پارلیمنٹ کیلئے اپنے حلقے سے سفر کرنے کی شرط بھی ختم ہوجائے گی، ارکان پارلیمان کو مراعات دینے سے ملکی خزانے پر سالانہ 30 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔