Monday, January 30, 2023

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملکی تاریخ کا متنازعہ ترین بجٹ پیش کر دیا

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملکی تاریخ کا متنازعہ ترین بجٹ پیش کر دیا
اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ۲۰۱۸-۱۹ کے نئے بجٹ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حزب اختلاف سے ‘شرم اور شرم’ کے نعرے کے ساتھ بجٹ کی تقریر شروع کی۔ وفاقی وزیر خزانہ  نے کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ، آج کا بجٹ نواز شریف کے نقطہ نظر کا عکاس ہے۔ ادھر قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید شاہ نے ایک منتخب کردہ شخص کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کے معاملے پر ہاؤس سے واک آؤٹ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے حکومت کو بجٹ میں ترمیم کرنے کی طاقت ہو گی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے ایم این اے نے اسپیکر کے دائرے کے سامنے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔ وفاقي بجٹ دو ہزار اٹھارہ انيس ميں نان ٹيکس ريونيو کا تخمينہ سات کھرب اکہتر ارب چھياسي کروڑ روپے لگايا گيا جس ميں پراپرٹي اينڈ انٹر پرائز سے دو کھرب چھتيس ارب چھياسي کروڑ نوے لاکھ ، سول ايڈمنسٹريشن سے ملنے والی ريسپيٹس سے تين کھرب پانچ ارب تراسي کروڑ ستر لاکھ اور ديگر ذرائع سے دو کھرب انتيس ارب پندرہ کروڑ پچاس لاکھ روپے ملنے کا امکان ہے۔ بجٹ دستاويز کیمطابق نان ٹيکس ريونيو ميں پاکستان ٹيلی کام اتھارٹی سے بارہ کھرب اٹھہتر ارب ستر کروڑ ، تھری جی لائسنسز کی مد ميں چھ ارب پچاس کروڑ چاليس لاکھ ، ريگوليٹری اتھارٹيز کی پينلٹيز سے تين سو پچيس ملين ، صوبوں سے مارک اپ کی مد ميں سولہ ارب اٹھہتر کروڑ بيس لاکھ  ،پی ايس ايز اور ديگر کے مارک اپ سے ايک کھرب تئيس ارب چونسٹھ کروڑ نوے لاکھ اور ڈيونڈز کی مد ميں چھہتر ارب سينتاليس کروڑ دس لاکھ ملنے کا امکان ہے۔ جنرل ايڈ منسٹريشن سے پانچ ارب پچہتر کروڑ چاليس لاکھ ، ايس بی پی منافع سے دو کھرب اسي ارب ، ڈيفنس سے پندرہ ارب چھيانوے کروڑ، کميونٹی سروسز سے ايک ارب چوبيس کروڑ اور سوشل سروسز سے ايک ارب انچاس کروڑ ملنے کا امکان ہے۔ اکنامک سروسز سے آٹھ ارب انسٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ فارن گرانٹس کي مد ميں پندرہ ارب نوے کروڑ بيس لاکھ،خام تيل کي رائلٹی کی مد ميں سولہ ارب بياسي کروڑ ساٹھ لاکھ، قدرتی گيس کي رائلٹی کي مد ميں چھتيس ارب اکياون کروڑ ساٹھ لاکھ ايل پی جی پر پٹروليم ليوی کي مد ميں دو ارب ملنے کا امکان ہے۔