Monday, September 26, 2022

وفاقی فنانس بل میں انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ شامل کرنے کا فیصلہ

وفاقی فنانس بل میں انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ شامل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(92نیوز)وفاقی حکومت نے  فنانس بل میں انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2015 کا مسودہ نائنٹی ٹو نیوز نے حاصل کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق قانون بے نامی جائیداد کی خریدو فروخت کو روکنے کے لیے لایا گیا ہے ۔ قانون کے ذریعے جائیدادکی خریدو فروخت میں استعمال ہونیوالے کالے دھن کو روکا جائے گا۔ دستاویزات میں بتایا ہے کہ قانون کے تحت حکومت کسی بھی جائیداد کو 25 فیصد اضافی نرخ پر خریدنے کی مجاز ہوگی ۔ دستاویزات میں لکھا ہے کہ اراضی خرینے کےلئے اصل مالکان سامنے نہیں آتے اور وہ اس خریداری میں اپنا کالا دھن استعما ل کرتے ہوئے کسی اور کے نام جائیداد کروادیتے ہیں ۔ ان بے نامی ٹرانزیکشن اور کاروبار کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سےموثر قانون سازی کی  جائے گی تاکہ آئندہ بے نامی جائیداد کی خریدو فروخت کی حوصلہ شکنی کی  جاسکے۔ بے نامی جائیداد کی خریدو فروخت کرنے والوں کو 6 ماہ سے دو سال کی قید دی جائے گی،بے نامی جائیداد کی خریدوفروخت کی غلط معلومات دینے والوں کو 3 ماہ سے 3 سال تک کی قید سنائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر، چیف کمشنر اور انکم ٹیکس آفیسر کے ذریعے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی ان افسران کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ حکومتی افسران کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے سیکٹر میں بڑے پیمانے پر کالا دھن استعمال ہورہا ہے جس کی سرکولیشن کو روکنا ازحد ضروری ہے ۔