Monday, September 26, 2022

وفاقی حکومت نے کلبھوشن یادو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرنیکی استدعا کردی

وفاقی حکومت نے کلبھوشن یادو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرنیکی استدعا کردی

اسلام آباد ( 92 نیوز) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت نے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی۔  درخواست فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کیلئے  حال ہی میں جاری کیے گئے آرڈیننس کے تحت خود حکومت نے دائر کی۔  عدالت سے کمانڈر یادیو کی نظر ثانی درخواست کیلئے نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ۔

بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو نے  اپنی سزا سے متعلق نظر ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ،  بھارت نے بھی پاکستان کی جانب سے نظر ثانی اپیل کی سہولت کا فائدہ اٹھانے سے گریز کیا جس پر  وفاقی حکومت خود معاملہ لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئی ۔

وزارت قانون و انصاف کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس میں  قومی مفاد میں عدالت سے کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کی ۔

وزارت قانون نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک وکیل مقرر کرے جو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کلبھوشن کو فوجی عدالت سے سنائی جانے والی سزا کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی  اور فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی پیروی کرے۔

یہ بھی بتایا کہ کلبھوشن کے انکار کے بعد اس کے علاوہ اس کے پاس آزاد ذرائع موجود نہیں کہ خود سے وکیل کر لے۔درخواست میں جج، ایڈووکیٹ جنرل برانچ، جی ایچ کیو اور وزارت دفاع کو فریق بنادیا گیا ۔