Wednesday, October 5, 2022

وفاقی حکومت نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو قومی مالیاتی کمیشن سے نکال دیا

وفاقی حکومت نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو قومی مالیاتی کمیشن سے نکال دیا
اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی حکومت نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو قومی مالیاتی کمیشن سے نکال دیا۔ نیا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ن لیگ کی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے نیشنل فنانس کمیشن کی تشکیل کا نیا نوٹیفکیشن پیش کیا۔ بتایا نیا کمیشن 11 کی بجائے نو ممبران پر مشتمل ہے۔ مشیر خزانہ اور بلوچستان سے جاوید جبار اب کمیشن کا حصہ نہیں۔ جسٹس عامرفاروق نے درخواست گزار محسن شاہ نواز رانجھا کو مخطاب کیا اور ریمارکس دئیے کہ جس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا وہ حکومت نے واپس لے لیا۔ آپ نے اپنے کیس میں جو استدعا کی اس پر بھی عمل ہو گیا۔ اگر آپ کو نئے نوٹیفکیشن پر کوئی اعتراض ہے تواسے بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے جس پر لیگی رہنما نے کہا کہ ہمارا اعتراض تھا کہ ہم سے مشاورت کے بغیر مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ ہماری یہ کامیابی ہے کہ حکومت کو ہم نے آئین کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا۔ اٹارنی جنرل نے پرانے مالیاتی کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کا بتایا تو عدالت نے انکی تعریف کی۔ جسٹس میاں گل اورنگزیب نے ریمارکس دئیے ہر اٹارنی جنرل اس طرح بات نہیں کرتا۔ لیگی رہنماوں نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ وفاق کی طرف سے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی بھوندی کوشش تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ن لیگ کی درخواست کو غیرموثر قرار دے کر نمٹا دیا۔ ادھر شہزاد اکبر اور ملک امین اسلم کے عہدوں میں ردودبدل ک دیا گیا۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر مشیر برائے داخلہ اور احتساب مقرر جبکہ ملک امین اسلم وزیراعظم کے معاون خصوصی موسمیاتی تبدیلی ہوں گے۔ دونوں کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔ کابینہ ڈویژن نے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔