Thursday, September 29, 2022

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 4451ارب روپےسے زائد کا بجٹ پیش کردیا

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 4451ارب روپےسے زائد کا بجٹ پیش کردیا
اسلام آباد(92نیوز)وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے چوالیس کھرب اکاون  ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا، بجٹ میں کل وسائل کا تخمینہ اکتالیس  کھرب اڑسٹھ  کروڑ لگایا گیا ہے۔ دو سو ترپن ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے باوجود حکومت کو اگلے مالی سال کے دوران بھی تیرہ کھرب اٹھائیس ارب  روپے کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال دوہزار پندرہ سولہ کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ اگلے مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 44 کھرب 51 ارب روپے ہے، جو گذشتہ برس کے مقابلے میں 3.5 فیصد زیادہ ہے۔ 2015-16  کے دوران وسائل کی دستیابی کا تخمینہ 41 کھرب 68 ارب روپے ہے جب کہ قطعی مالیاتی وصولیوں کا تخمینہ 24 کھرب 63 ارب روپے ہے۔ وفاقی مالیاتی وصولیات میں صوبائی حصے کا تخمینہ 1849 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگلے بجٹ میں بیرونی وصولیوں کا تخمینہ 751 ارب روپے لگایا گیا ہے۔  مالی سال کے دوران کل اخراجات کا تخمینہ 44 کھرب 51 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں جاری اخراجات کے لیے 34 کھرب 82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سود کی ادائیگیوں پر 1300 ارب روپے خرچ ہوں گے، دفاعی امور پر 781 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جب کہ سبسڈیز کے لیے 137 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سرکاری خدمات کے اخراجات کا تخمینہ 2446 ارب روپے ہے۔ 2015-16 کے بجٹ میں مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 1513 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں صوبوں کے لیے 813 ارب اور وفاق کے لیے 700 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بنکوں سے 282 ارب روپے کا قرضہ حاصل کرے گی۔ نیشنل انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 102 ارب روپے اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔  اگلے مالی سال کے دوران ایف بی آر  کا ریونیو ہدف 3103 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں 253 ارب روپے کے نئے ٹیکسز بھی لگائے گئے ہیں۔ بلاواسطہ ٹیکسوں سے حکومت کو 1348 ارب روپے کی آمدن ہوگی جب کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 1755 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 1326 ارب روپے ، کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 299 ارب روپے، ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 206 ارب روپے اور سیلز ٹیکس کی مد میں 1250 ارب روپے کی آمدن  متوقع ہے۔ اضافی ٹیکسز کے باوجود حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران 1328 ارب روپے کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔