Thursday, September 29, 2022

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت سے استعفی دے دیا ،ذرائع وزیر اعظم ہاؤس

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت سے استعفی دے دیا ،ذرائع وزیر اعظم ہاؤس

اسلام آباد ( 92 نیوز ) وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دےدیا ۔ وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ پر استعفے کا دباؤ بڑھ رہا تھا جس کے بعد مشاورت کی گئی اور وہ مستعفی ہو گئے ۔
ملک کی معیشت کے معاملات سدھارتے سدھارتے ، وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا اپنا معاملہ ہی بگڑ گیا ۔ اور پھر وہی ہوا جس کا چارسو چرچا اور مطالبہ تھا ۔ وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں ۔
آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کیا تو اپوزیشن نے اسحاق ڈار کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ۔
تاہم دوسری طرف سے تاویلیں بھی دی جاتی رہیں کہ اسحاق ڈار مستعفی نہیں ہوں گے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اسحاق ڈار کے گرد گھیرا تنگ ہوتا گیا ۔ایک طرف وزارت خزانہ کا بوجھ تو دوسری طرف احتساب عدالت میں پیشیاں اسحاق ڈار کے لئے پریشر برداشت کرنا ممکن نہ رہا ۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ڈاکٹر مالک نے 92 نیوز سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے استعفے کو ملک کے لئے ایک اچھی اور خوشگوار خبر قرار دیا ۔
اب ملک کے معاشی معاملات سنبھالنے کے لئے اکنامک ایڈوائزری کمیٹی بنائی جائے گی اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود خزانے کے معاملات بھی دیکھیں گے۔
آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے 14 نومبر کو نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے ۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی حاضری کیلئے استثنی کی استدعا کی تھی جسے فاضل جج محمد بشیر نے مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے ۔
نومبر 15 کو نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپر ملز معاملے کی دوبارہ تحقیقات شروع کرنے پر اسحاق ڈار کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا تھا ۔
قومی احتساب بیورو نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع کیں جس کے بعد وزیر خزانہ اسحق ڈار کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو گیا ۔ ترجمان نیب کے مطابق ریفرنس کے منسوخ ہونے کے بعد اسحاق ڈار کیخلاف بحیثیت ملزم تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہبازسمیت شریف فیملی کے دیگر ارکان کو نامزد کیا گیا تھا ۔ شریف فیملی پر الزام ہے کہ انھوں نے حدیبیہ پیپرز ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تھی ۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں اسحاق ڈارحدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔
نومبر 16 کو نیب نے اسحاق ڈار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی ۔چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد سفارش وزارت داخلہ کو ارسال کر دی گئی تھی ۔