Thursday, September 29, 2022

وزیر اعظم  کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ،کابینہ نےآئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی

وزیر اعظم  کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ،کابینہ  نےآئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی
اسلام آباد(92نیوز)وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کا بینہ کا اجلاس ہوا ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا گیا،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ سفارشات کی منظوری دیدی گئی۔ سات سو ارب روپےوفاق کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  جبکہ 814 روپے صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر خرچ کئے جائیں گےملک بھر میں مختلف منصوبوں کے لئے 20ارب 62کروڑ مالیت کے خصوصی ترقیاتی فنڈز بھی رکھے گئے ہیں۔ دو ارب 20کروڑ روپے مالیت کا گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبہ 1 ارب کا کچھی کینال پروجیکٹ فیز ون دادو سے ٹھٹھہ تک آؤٹ فال ڈرین کا1 ارب روپے کا منصوبہ ہے۔ لواری ٹنل اور ملحقہ سڑکوں کے لئے 2 ارب ، کوئٹہ کو پانی سپلائی کرنے کے لئے منگی ڈیم کی تعمیر کے لئے 1 ارب روپے میرانی ڈیم متاثرین کو وفاق کی طرف سے 50 فیصد معاوضے کے لئے 1 ارب 50کروڑ آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کی خصوصی ترقی کے فنڈز کے لئے 3ارب لیاری ایکسپریس وے منصوبے کی تعمیر نو کے لئے 70 کروڑ،اسلام آباد میں حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے لئے 80کروڑ روپے کا منصوبہ ،ایل این جی پاور اسٹیشنز کے لئے نیشنل پاور پارک کمپنی کے لئے 2 ارب 50 کروڑ اور سیاحت کے فروغ کے لئے پی ٹی ڈی سی کے لئے بھی 3 ارب روپے کے منصوبے شامل ہیں۔ آئندہ بجٹ میں زراعت کے شعبے کی پیداوار کا ہدف 3.9 فیصد جبکہ صنعتی پیداوار کے شعبے کا پیداواری ہدف 6.1فیصد مقرر کئے جانے کا امکان ۔ گزشتہ مالی سال میں شرح نمو میں 4.2 اضافہ ہوا جبکہ آئندہ جی ڈی پی میں اضافے کا ہدف 5.5 فیصد رکھا جائے گا۔ حکومت نے 20سے30 ارب روپے کی اضافی سبسڈی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرمیں اضافےمہنگائی کی شرح کم کرنےاور غیرضروری ٹیکسزاور سرچارجز نہ لگانےکا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 4.8فیصد رہنے کی توقع ہے مالیاتی خسارہ کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا جائےگا بجٹ میں دہشتگردی کے خاتمے،آپریشن ضرب عضب اور متاثرین کی واپسی کے لئے 100ارب روپے مختص کئے جائیں گے شرح سود میں کمی کے باعث بھی ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے  گا اور ترقی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔