Sunday, December 4, 2022

وزیر اعظم کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس، ملکی معاشی صورتحال پر غور

وزیر اعظم کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس، ملکی معاشی صورتحال پر غور
اسلام آباد ( 92 نیوز)  وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا  جس میں  ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی غور  کیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاشی ٹیم کے اجلاس میں نئے معاشی اہداف سے متعلق بھی مشاورت کی گئی ۔ وزیر اعظم معاشی ٹیم کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے  اور ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا ، اجلاس میں  نئے معاشی اہداف سے متعلق بھی مشاورت کی گئی ، معیشت کے پانچوں اعشاریوں پر منفی رحجانات پر ایکشن پلان طلب کرلیا  ، وزیراعظم کو امپورٹ میں کمی کے منفی نتائج اور مہنگائی بڑھنے کی وجوہات بارے بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ  درآمدات اور برآمدات دونوں کم ہونے سے معیشت پر منفی اثر پڑا ہے ، بنکوں کی شرح سود 13 فیصد کرنے سے بھی مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا جاسکا۔ ادھر ایف بی آر کے تمام پلان ناکام ہو گئے اور محصولاتی شارٹ فال 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ، سال جولائی تا نومبر ٹارگٹ دو ہزار 117 ارب روپے تھا، ایف بی آر ایک ہزار 817 ارب روپے ہی جمع کرا سکا۔ اپوزیشن نے معاشی صورتحال پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ، لیگی رہنما مریم اورنگزیب کہتی ہیں موجودہ حکومت کے ایک سال میں معیشت کو 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ، وزیراعظم عمران خان صاحب عوام کا آپ کیلئے پیغام ہے کہ اب آپ گھبرانا شروع کردیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک سال میں تاریخی 11 ہزار ارب قرضہ لے چکے ہیں ،  آپ آئی ایم ایف جا نہیں رہے بلکہ جاچکے ہیں ، آلو ، پیاز ٹماٹر ، دالیں ، روٹی ، آٹا، پھل سب چیزیں مہنگی ہوچکی ہیں،  ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے عمران خان 25 لاکھ نوکریاں چھین چکے ہیں۔