Wednesday, December 8, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ،ٹرمپ کا ٹویٹ مسترد

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ،ٹرمپ کا ٹویٹ مسترد
January 2, 2018

اسلام آباد ( 92 نیوز ) وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا تین گھنٹے طویل اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ سمیت کسی ملک کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان کے اندر ڈرون حملے کا موثر جواب بھی دیا جائے گا ۔
پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان سے خلاف بیان مسترد کر دیا گیا ۔ بیان سامنے آنے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ۔ قومی سلامتی کمیٹی کا تین گھنٹے طویل ہنگامی اجلاس ہوا ۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ اجلاس میں بڑے فیصلے کئے گئے ۔
اجلاس میں پہلا فیصلہ یہ ہوا کہ امریکہ پاکستان کے حوالے سے جو بھی پالیسی اپنائے گا عسکری اور سیاسی قیادت مشترکہ حکمت عملی کے تحت جواب دے گی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرا بڑا فیصلہ یہ ہوا کہ پاکستان کے اندر ڈرون حملے کا بھر پور جواب دیا جائے گا ۔
تیسرا فیصلہ ہوا کہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے ۔ ہر الزام اور دھمکی کا موثر جواب دیا جائے گا ۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ امداد بند کرتا ہےتو کر لے اس سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اجلاس کےشرکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔
سیاسی وعسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ پاکستان کوئی ڈو مور نہیں کرے گا ۔ اب امریکہ اور دیگر کو ڈو مور کرنا ہوگا ۔
دوسری طرف وزیرخارجہ خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں پاکستان کو دی گئی رقم کا آڈٹ کرالیں ۔ اس مقصد کے لئے کسی بھی امریکی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں ۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کو 33 ارب ڈالر دینے کی بات کی گئی ہے ۔ ٹرمپ آڈٹ کرائیں اور دنیا کو بتائیں کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون دھوکہ دے رہا ہے ۔
اس سے پہلےوزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان مشیر قومی سلامتی اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے ۔