Monday, September 26, 2022

وزیر اعظم کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس ،ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت اب آپریشن کی حمایت نہیں کررہی  : چودھری نثار

وزیر اعظم کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس ،ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت اب آپریشن کی حمایت نہیں کررہی  : چودھری نثار
کراچی(92نیوز)کراچی کے  گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سرجوڑ  کر بیٹھی  کراچی آپریشن سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے اہم مقدمات کی کمزور پراسیکیوشن پر افسوس کا اظہار کیا  وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے  کہ سندھ حکومت اب آپریشن کی حمایت نہیں کررہی ۔ تفصیلات کےمطابق اپیکس کمیٹی کے اجلاس  وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت ہوا  جس میں  آرمی چیف  ڈی جی آئی ایس آئی  گورنر  وزیراعلیٰ سندھ، کورکمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک ہوئے  چیف سیکریٹری ، آئی جی اور ڈی جی رینجرز نے آپریشن سے متعلق بریفنگ دی ۔ ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق آئی جی سندھ نےبتایا کہ انسدادد ہشت گردی عدالتوں میں 2688 کیسززیر سماعت ہیں ۔ رواں برس صرف 66 کیسز کا فیصلہ ہوا اور تیس کیسز میں سزائیں ہوئیں ترجمان کے مطابق آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ رینجرز اور فوجی جوانوں پر حملوں کے ملزم گرفتارکرلیے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ کراچی آپریشن کا ہدف امن کی بحالی ہے ۔ انہوں نے کیسز کی کمزور پراسیکیوشن اور انوسٹی گیشن پر افسوس کا اظہار کیا وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر  پولیس کے لیے  جدید اسلحہ اور نادرا کے ڈیٹا تک رسائی مانگ لی بتایا کہ مزید تیس انسداد دہشت گردی عدالتیں بنائی جارہی ہیں  وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار نے شکوہ کیا کہ کراچی آپریشن کو شروع میں  سندھ حکومت کی حمایت حاصل تھی مگر اب ایسا لگتا ہے  صوبائی حکومت پیچھے ہٹ رہی ہے آپریشن میں پولیس اور رینجرز نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور انہیں عوام کی  بھرپور پذیرائی بھی حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے آئندہ اپیکس کمیٹی خود  پراسکیوشن کے معاملات پر نظر رکھی گی ۔  وزیراعلیٰ سندھ نے  کہا کہ صوبائی حکومت دوسو نئے پراسکیوٹر بھرتی کررہی ہے کراچی آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔