Friday, July 30, 2021
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
٩٢ نیوز انگلش آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
رجحان

وزیراعلی مراد علی شاہ کو اعجاز جاکھرانی کے گھر نیب چھاپے پر تحفظات

وزیراعلی مراد علی شاہ کو اعجاز جاکھرانی کے گھر نیب چھاپے پر تحفظات
June 30, 2021

کراچی (92 نیوز) وزیراعلی مراد علی شاہ نے اعجاز جاکھرانی کے گھر نیب چھاپے پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا جاکھرانی سندھ حکومت کے مشیر ہیں۔ چھاپے مار کر ہراساں کرنا مناسب نہیں۔ کارروائی مہذب طریقے سے بھی ہو سکتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا وہ کسی کی خواہش پر نہیں جائیں گے۔ پانچ سال پورے کریں گے۔

گزشتہ روز جیکب آباد میں اعجاز جاکھرانی کے گھر چھاپے کے دوران نیب ٹیم پر ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے واقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کو انکوائری کروانے کا حکم دے دیا تھا ۔ نیب حکام کے مطابق اعجاز جاکھرانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے، حملے سے ٹیم کے ارکان زخمی ہوئے، ضلعی پولیس اور ایس ایس پی جیکب آباد نے کوئی تعاون نہیں کیا۔

نیب سندھ ایجوکیشن ریفارمز پروگرام میں بے ضابطگیوں کی سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں تحقیقات کر رہی ہے۔ نیب کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ٹیم نے گزشتہ روز اعجاز جاکھرانی کے گھر چھاپہ مارا تھا۔

ادھر نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس میں وزیراعلی سندھ احتساب عدالت میں پیش ہوئے لیکن فرد جرم نہ لگ سکی۔ جج اصغر علی نے نیب ریفرنس پر سماعت کی۔ غیرحاضر ملزمان نثار احمد اور عبدالغنی مجید کی جانب سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کردی گئیں۔ نیب نے اشتہاری ملزم محمد علی کی جائیداد ضبطگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

جج اصغر علی نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر جو فرد جرم کیلئے نہ آیا اسکے وارنٹ جاری کیے جائینگے ۔ عدالت نے سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ سیشن کے دوران تین دن تک اچھے ماحول میں بات ہوتی رہی ، چوتھے روز پتہ نہیں اپوزیشن کو کیا ہوا، جس دن بجٹ پیش کیا گیا اپوزیشن نے شور کیا، ارکان اسمبلی کا کام ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی میں اپنے حلقے کے عوام اور اپنی پارٹی کا موقف پیش کریں۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی پانچ جماعتوں میں سے تین جماعتیں اسمبلی میں موجود تھیں ، اے این پی ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی میں موجود تھے ۔ بجٹ منظور ہونے کے بعد اپوزیشن نے پھر مسائل کھڑے کئے ، اپوزیشن کی طرف سے ایک بھی کٹ موشن نہیں آیا، ساتویں دن بجٹ پاس ہو گیا پھر اپوزیشن نے ہنگامہ کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلی چلے ، اپوزیشن سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ، بجٹ بحث میں اپوزیشن سے کہا کہ وہ بھی بحث کریں ۔