Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

وزیراعظم کے جے آئی ٹی کوبیان کی تفصیلات بھی منظرعام پر آگئیں

وزیراعظم کے جے آئی ٹی کوبیان کی تفصیلات بھی منظرعام پر آگئیں
July 11, 2017

اسلام آباد(92نیوز)تحقیقاتی ٹیم کے روبرو نوازشریف نے  پہلے محمد حسین نامی شخص کے ساتھ کسی تعلق سے انکار کیا۔ پھر خود ہی مان لیا کہ محمد حسین ان کے خالو ہیں، وزیراعظم گلف اسٹیل ملز کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے بھی کتراتے رہے ۔

تفصیلات کےمطابق وزیر اعظم نوازشریف نے کیا کچھ بتایا اور کیا کچھ چھپایا ۔ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ نے سب آشکار کر دیا ۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوران پیشی وزیر اعظم سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ کسی محمد حسین نامی شخص کو جانتے ہیں۔ تو انہوں نے پہلے تو انکار کیا کہ نہ وہ اس شخص کو جانتے ہیں نہ انکی گلف سٹیل ملز میں پارٹنر شپ رہی۔ لیکن پھر اڑھائی گھنٹے کے بعد وزیراعظم نے تسلیم کر لیا کہ وہ محمد حسین کو جانتے ہیں جو رشتے میں ان کے خالو لگتے ہیں ۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ قرض لیکر گلف سٹیل مل قائم کی ۔ وہ کبھی گلف سٹیل کے مالک رہے نہ مالی فوائد حاصل کئے ۔ وہ بیرون ملک کوئی کمپنی نہیں چلا رہے۔ گلف سٹیل ملز کی فروخت کی تفصیلات ان کے والد میاں محمد شریف مرحوم کے علم میں تھیں ۔ انہیں بس یہ پتا ہے کہ گلف سٹیل مل کی فروخت کے بعد سرمایہ پاکستان سے باہر کاروبار قائم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ۔ رپورٹ کیمطابق وزیراعظم نواز شریف نے 16 مئی 2016ء کو قومی اسمبلی میں دوران خطاب گلف سٹیل ملز کے بارے میں بیان دیا تھا ان کے والد جب کاروبار کرنے دبئی پہنچے تو انہوں نے گلف سٹیل ملز کے نام سے فیکٹری قائم کی جو دس لاکھ سکوائر فٹ پر محیط تھی۔یہ فیکٹری 1980 میں 33.37 ملین درہم یا نو ملین ڈالر میں فروخت ہوئی۔جے آئی ٹی نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ گلف سٹیل ملز کی 1980ء میں فروخت کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

رپورٹ کیمطابق وزیراعظم نوازشریف ایف زیڈ ای نامی آف شور کمپنی کے مالک بھی ہیں۔ وہ اس کمپنی سمیت چودھری شوگر مل سے بھی تنخواہ لیتے رہے ہیں ۔