Wednesday, November 30, 2022

وزیراعظم کو بیرون ملک رقوم منتقلی کی تفصیلات دینا ہونگی: عدالت

وزیراعظم کو بیرون ملک رقوم منتقلی کی تفصیلات دینا ہونگی: عدالت

اسلام آباد (92نیوز) پانامہ لیکس کیس میں وزیراعظم کے وکیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور بچوں کے درمیان تحائف کا تبادلہ بینکوں کے ذریعے ہوا۔ عدالت سے کچھ چھپانا نہیں چاہتے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عدالت دیکھنا چاہتی کہ کیا 1.9ملین ڈالر بینکوں کے ذریعے آئے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اپنے والد کے زیرکفالت نہیں۔ وزیراعظم نے مریم نواز کو تحائف بنکوں کے ذریعے دیے۔ وزیراعظم اور بچوں کے درمیان رقوم کا تبادلہ بنک کے ذریعے ہوا۔ وہ مانتے ہیں وزیراعظم نے تحائف لئے لیکن بینکوں کے ذریعے لئے۔ جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ بینک ریکارڈ کی تصدیق کیوں نہیں کرائی گئی۔ آپ کو دستاویزات اپنے جواب کے ساتھ جمع کرانی چاہئیں تھیں۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت چاہے تو بینکوں سے ریکارڈ کی تصدیق کراسکتی ہے۔ عدالت سے کچھ چھپانا نہیں چاہتے۔ وزیراعظم کے اکاﺅنٹ سے 3لاکھ 10 ہزار ڈالر مریم نواز کے اکاﺅنٹ میں منتقل ہوئے۔ الزام ہے کہ آمدن کو تحائف ظاہر کرکے ٹیکس چھپایا گیا ہے۔ تحائف کو اسی صورت آمدن تصور کیا جائے گا جب یہ کسی ایسے شخص کی جانب ہو جس کا ٹیکس نمبر نہ ہو۔ اِنکم ٹیکس قوانین کے تحت بیرون ملک سے آنے والے تحائف ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت دیکھنا چاہے گی کہ کیا 1.9ملین ڈالر کی رقم بینکوں کے ذریعے آئی۔ مخدوم علی خان کاکہنا تھا کہ عدالت کے طلب کرنے پر اکاﺅنٹس کی تفصیل فراہم کر دیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا سٹیل مل کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ حسین نواز کے سعودیہ میں اور بھی کاروبار ہیں۔ کاروبار کی تفصیلات ان کے وکیل عدالت کو دیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنک سے متعلق ہے۔ الزام ہے رقوم غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئیں۔ رقوم کی منتقلی کے حوالے سے تفصیلات دینا ہوں گی۔