Monday, October 3, 2022

وزیراعظم کسان پیکج ایک بار پھر معطل‘ عدالتی مداخلت پر چیف الیکشن کمشنر برہم

وزیراعظم کسان پیکج ایک بار پھر معطل‘ عدالتی مداخلت پر چیف الیکشن کمشنر برہم
اسلام آباد (92نیوز) الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کسان پیکج کو جزوی طور پر ایک بار پھر معطل کردیا۔ ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو 5 دسمبر تک امدادی رقم نہیں دی جا سکتی۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ عدالتی رکاوٹوں کے باعث تمام تر توانائیاں ضائع ہورہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا علان ہوتے ہی وفاقی حکومت نے 341 ارب روپے کی رقم کا وزیر اعظم کسان پیکج کا اعلان کر دیا جس پر اپوزیشن جماعتوں اور انتخابی ماہرین کی تنقید کے بعد الیکشن کمیشن نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کسان پیکج کے تین حصوں پر عملدرآمد روک دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرکے کسان پیکج بحال کرا لیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ وفاق کے حق میں دیتے ہوئے معاملے کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے کیس الیکشن کمیشن کو دوبارہ بھجوا دیا۔ الیکشن کمیشن نے کسان پیکج سے متعلق تین سے زائد سماعتیں کیں جس کے بعد فیصلہ سنادیا۔ الیکشن کمیشن کے نئے فیصلے کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں 5 دسمبر تک ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو امدادی رقم نہیں دے سکیں گی جبکہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے امدادی رقم دو سے چار ہزار کرنے اور کپاس‘ چاول کی کاشت کے لیے قرضوں کی شرح دو فیصد کرنے کی جازت دے دی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر سماعت کے دوران ایک بار پھر ہائی کورٹ کی مداخلت پر برہم ہوگئے اور کہا ہم جتنے بھی فیصلے دیتے ہیں ہائی کورٹ حکم امتناعی جاری کردیتی ہے۔ عدالتوں کو الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت کا حق نہیں۔