Monday, January 17, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

وزیراعظم نے کاروبار بارے ملکی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف دیا ہے ، مشیر تجارت

وزیراعظم نے کاروبار بارے ملکی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف دیا ہے ، مشیر تجارت
January 30, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ وزیر اعظم نے کاروبار کے حوالے سے پاکستان  کی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف سونپا ہے ۔ اسلام آباد میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آسان کاروبار کے حوالے سے پاکستان 136 ویں نمبر پر ہے، خطے کی مارکیٹوں سے استفادہ حاصل کرنا ہوگا۔۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان کو انکی رقم 15دن میں سٹیٹ بنک سے ریفنڈ ہو جائیگی وزیراعظم نے پاکستان کی رینکنگ بہتر بنانے کا ہدف دیا، وہ ہوٹلنگ ،ریزارٹ اور سیاحت میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ  پاکستانی مصنوعات کا معیار بڑھانا اور قیمتیں مناسب رکھنا ہونگی، ٹریکٹر اور موٹر سائیکلوں کی برآمد شروع ہونے والی ہے۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے سرمایہ کاروں کےلیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آسان کاروبار کیلئےچاروں صوبوں میں خصوصی یونٹ قائم کیے جائیں گے ۔ ہارون شریف نے بتایا کہ پیداوار بڑھانے کےلیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں، کاروباری افراد کےلیے ٹیکس نظام آسان بنایا جا رہا ہے ،  ہمسایہ ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ  خصوصی یونٹس کاروباری افراد کو 24گھنٹے خدمات فراہم کرینگے، پاکستانی سفارتخانہ بزنس ویزہ 24گھنٹے میں فراہم کر دیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی آسانی کیلئے بزنس ویزہ بھی آن لائن کر دیا گیا ہے۔ ہارون شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت بڑھے۔ دوسری جانب  طورخم کے راستے تجارت کا حجم بڑھانے کی امید تو پیدا ہو گئی مگر افغانستان کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح بھارتی مصنوعات سے اب بھی 10 فیصد زیادہ ہے۔ طورخم کے راستے  تجارت کا حجم 2.4 ارب ڈالر ہوا کرتا تھا جو اب سکڑ کر صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔ 50 سال سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت ہوتی رہی۔ اکتوبر 2010 میں اپٹیکا کا معاہدہ ہوا تو بھارت اور امریکہ بھی اس معاہدے میں شامل ہو گئے، نتیجہ یہ نکلا کہ طورخم کے راستے ہونے والی 70 فیصد تجارت چار بہار اور بندر عباس منتقل ہو گئی۔