Wednesday, October 5, 2022

وزیراعظم نے میانوالی میں 10 بلین سونامی ٹری منصوبے کا افتتاح کردیا

وزیراعظم نے میانوالی میں 10 بلین سونامی ٹری منصوبے کا افتتاح کردیا
میانوالی (92 نیوز) وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں 10 بلین سونامی ٹری منصوبے کا افتتاح کردیا۔ کہتے ہیں کہ میرا مشن پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ یہ پہلی حکومت آئی جس نے بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پپلاں خاص مقصد کیلئے آیا ہوں، نوجوانوں میں ابھی تک احساس نہیں ہے کہ پاکستان کیلئے شجر کاری کتنی اہمیت رکھتی ہے، چاہتا ہوں اسکولز میں ایک مضمون شجرکاری پر رکھنا چاہیے، انہیں اس کی اہمیت سے متعلق پڑھایا جائے، جو جنگل انگریز چھوڑ کر گیا تھا وہ جنگل ہم تباہ کر چکے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بچپن میں میانوالی آتا تھا کندیاں میں بڑا جنگل تھا، کندیاں کے جنگل کو تباہ کر کے رکھ دیا گیا، کسی کو اس کی اہمیت کا نہیں پتہ جنگل کیوں اتنے ضروری ہیں،جنگل تباہ کئے تو موسم میں تبدیلی آپ کا مستقبل تباہ کر دے گی۔ ہم میانوالی میں اسپتال ٹھیک کر رہے ہیں، اور بنا بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو اللہ نے بہت سی نعمتیں دی ہیں، افسوس ہے ہم شکر ادا نہیں کرتے، اللہ نے پاکستان میں بارہ موسم دئیے، ہر قسم کی چیز اور ہر قسم کا پھل پاکستان میں اگ سکتا ہے، یہ پاکستان دنیا کو اناج دے سکتا ہے، اس ملک میں آٹا اور چینی تو مہنگی ہونی نہیں چاہیے، پاکستان میں کسی بھی چیز کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا ہمارے نبیﷺ کی حدیث ہے کہ درخت اگاؤ، ہمارے نبیﷺ جو بھی کہتے تھے ہماری بہتری کیلئے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اسپین میں آج بھی باغات ہیں جو مسلمانوں نے اگائے، اسپین کا موسم بھی پاکستان جیسا ہے۔ عمران خان بولے کہ اپنی زندگی میں دیکھا ہم نے جنگلات تباہ کر دیئے، چھانگا مانگا میں بڑے درخت کاٹ دیئے گئے، لوگوں نے قبضے کر لئے، جنہوں نے جنگلات کی زمینوں پر قبضہ کیا وہ مجرم ہیں، جیلوں میں ڈالیں۔ کندیاں کے لوگوں کی ذمہ داری ہے اس جنگل کو آباد کرنا ہے، یہ جنگل آپ کو نوکریاں دلوائے گا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ہم جو بیری لگا رہے ہیں یہ مقامی درخت ہے، بیری کے شہد کی دنیا میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہےاور یہ شہد صحت کیلئے بہت اچھا ہے، بیری کا شہد دنیا کو بیچ سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی جی پنجاب بڑے غنڈوں کو پکڑیں چھوٹوں پر ہاتھ نہ ڈالیں، کبھی چھوٹے چوروں کو پکڑ کر چوری ختم نہیں ہوتی، بڑے چوروں کو پکڑیں تو چھوٹے چور ویسے ہی ڈر جاتے ہیں۔ ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس علاقے پر پیسہ خرچ کیا جائے جو پیچھے رہ گئے، پاکستان کا سارا مغربی علاقے پیچھے رہ گیا، ہمارا فرض ہے جو علاقے پیچھے رہ گئے ان پر پیسہ خرچ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا مشن پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، میرا مشن وہ ہے جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا تھا۔ جس ریاست کو فلاحی بننا تھا ہم غلط طرف چل پڑے، کچھ لوگ امیر ہو گئے باقی غریب رہ گئے، سرکاری اسپتالوں میں صرف غریب آدمی جاتا ہے، ہم بڑے ہو رہے تھے تو دانشور سرکاری اسکولوں سے نکلتے تھے، روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم اس طرف جارہے ہیں کہ عدالت میں غریب جائے تو حکومت اسے وکیل کر کے دے، ہمیں مقروض پاکستان ملا، 50 لاکھ غریبوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جا چکے ہیں۔ غریب ترین لوگوں کو کفالت کارڈ دیئے جائیں گے۔