Friday, January 28, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

وزیراعظم نوازشریف نےجے آئی ٹی پر اعتراضات اٹھادیئے

وزیراعظم نوازشریف نےجے آئی ٹی پر اعتراضات اٹھادیئے
July 17, 2017

اسلام آباد(92نیوز)سربراہ سے لے کر ارکان تک وزیراعظم نوازشریف نے پوری جے آئی ٹی پرہی اعتراضات اٹھا دیئے۔ سپریم کورٹ میں جمع اعتراضات میں وزیراعظم نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا کہتے ہیں تحقیقاتی عمل متعصبانہ اورجانبدارانہ ہے غیر شفاف ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے۔

تفصیلات کےمطابق دائرہ اختیار سے ہٹ کر کام بیرون ملک سے غیر قانونی دستاویزات حاصل کی گئیں ، تفتیشی عمل متعصبانہ غیر منصفانہ اورجانبدارانہ ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات اٹھا دیئے۔ ان کی جانب سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے 16صفحات پر مبنی اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءپر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تحقیقات کےلئے برطانیہ میں اپنے کزن اختر راجہ جو تحریک انصاف کا کارکن ہےکی فرم”کوئسٹ“کی خدمات حاصل کیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ فرم کو بھاری رقوم دی گئیں جو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔  وزیر اعظم نے یہ بھی کہاہے کہ جے آئی ٹی کے ایک ممبر بلال رسول کی وابستگی تحریک انصاف جبکہ عامر عزیز کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی کے نمائندے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ان کے مطابق آئی ایس آئی کے نمائندے کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا۔ جے آئی ٹی میں نامزدگی کے وقت یہ افسر آئی ایس آئی کا حصہ ہی نہیں تھا۔ اسے معاہدے کے تحت ایجنسی سے منسلک کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اعتراضات میں وزیراعظم کاکہناہے کہ رپورٹ میں ان کی ذات اور نوکری سے متعلق حقائق تصوراتی ہیں۔ ان کےخلاف شہادتیں عدالتی اختیارات استعمال کرنے کے مترادف ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ نا مکمل اور نقائص سے بھر پور ہے۔ نامکمل رپورٹ کے باعث مدعا علیہان کے خلاف آرڈرپاس نہیں کیا جا سکتا۔ فیئر ٹرائل مدعا علیہان کا بنیادی حق ہے۔ وزیر اعظم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ غیر شفاف ٹرائل کو کالعدم قراردیتے ہوئے جے آئی ٹی کو مزید مواد جمع کرنے سے روکا جائے۔