Wednesday, November 30, 2022

وزیراعظم آئی جی کو نہیں ہٹا سکتے تو پھر الیکشن کا کیا فائدہ ، فواد چودھری

وزیراعظم آئی جی کو نہیں ہٹا سکتے تو پھر الیکشن کا کیا فائدہ ، فواد چودھری
اسلام آباد (92 نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم آئی جی کو نہیں ہٹا سکتے تو پھر الیکشن کا کیا فائدہ۔ میڈیا سے گفتگو میں فواد چودھری نے کہا آئی جی وزیر داخلہ کا فون بھی نہیں سنتے۔ آئی جی میرے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ شہر میں ہونے والے کرائم کو بتانے کیلئے فون کرتے ہیں وہ فون نہیں اٹھاتے۔ فون نہ اٹھانے والے نیرٹو سے انارکی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ وزیرمملکت شہریار آفریدی نے بھی آئی جی کے تعاون نہ کرنے کی شکایت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ تھانوں میں رشوت کی شکایت ہے۔ اگر بیوروکریٹس نے حکومت چلانی ہے تو پھر الیکشن کیوں کروائے۔ کے پی کے میں کوئی شکایت نہیں تھی، یہاں پر کیوں شکایات آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا کی حکومت میں کبھی بھی ایسی شکایات نہیں آئی کہ کسی افسر کو اٹھایا گیا۔ جہاں پر قانون کو فالو نہیں کیا جائے گا وہاں ہم ایکشن لیں گے۔ عدالتیں جو فیصلہ کریں گی ہمیں منظور ہو گا۔ فواد چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم کا چین کا دورہ ایک نیا باب لے کے آئے گا۔ پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ یقین ہے کہ پاکستان کو وہ گرداب جس مین نواز شریف اور آصف زرداری نے دھکیلا تھا اس میں کافی حد تک باہر نکل آئیں گے۔ پاکستان میں نئے معاشی استحکام کا سفر شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اقتصادی پالیسوں سے ملک میں بہتری آئی ہے۔ سرمایہ کارواں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ پاکستان معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج پر وزیراعظم کی پالیسیوں کا مثبت اثر پڑ رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا سٹیزن پورٹل پر ایک لاکھ شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ سیٹیزن پورٹل کے لگانے کا مقصد شکایات کو سننا ہے۔ افسران کے خلاف بھی شکایات سنی جا سکیں گی۔