Friday, September 30, 2022

نیپرا کا وزیراعظم سے توانائی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ

نیپرا کا وزیراعظم سے توانائی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ
 اسلام آباد (92 نیوز) نیپرا نے وزیراعظم سے توانائی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کر دیا۔ حکومت کے  لئے ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی ۔ گردشی قرضہ کا  1930 ارب  روپے کا پہاڑ  کھڑا ہو گیا ۔ نیپرا نے وزیر اعظم کو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انرجی ایمرجنسی لگانے کا  مطالبہ کر دیا ۔ گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے سخت اور فوری  اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ نیپرا  نے انکشاف کیا کہ  گردشی قرضہ وزارت توانائی کی جانب سے بتائی گئی رقم سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ وزیر اعظم کے سامنے  یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں    10سے 12 ارب روپے ماہانہ گردشی قرضہ بڑھنے کا دعوی کیا جاتا رہا جبکہ اصل میں  تقریبا چار گنا زیادہ رہا  اور یہ ماہانہ 41 سے 42 ارب  روپے تھے ۔ نیپرا نے  گردشی قرضوں میں کمی، بل کلیکشنز اور نظام کی بہتری کی رپورٹس پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ وزیر اعظم کو دی گئی رپورٹ کے مطابق  325 ارب روپے کا قرض توانائی کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے ہیں۔ نیپرا نے ریکوریز میں اضافے کیلئے لیبر یونینز پر پابندی لگانے کی  تجویز دے دی ۔ اس کے علاوہ کوئی توانائی منصوبہ درآمدی ایندھن سے نہ چلانے کی تجویز دے دی ۔ ریگولیٹر کے توانائی کے منصوبوں کیلئے 53 ارب روپے سالانہ قرض کی ری اسٹرکچرنگ کرنے کی بھی سفارش کر دی۔