Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کیس میں ضمنی ریفرنس دائر نہ کیا جا سکا

نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کیس میں ضمنی ریفرنس دائر نہ کیا جا سکا
February 23, 2018

اسلام آباد (92 نیوز) احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔ نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر نہ کیا جا سکا ۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنس تیار ہے مجاز اتھارٹی نے منظوری بھی دے دی ہے لیکن آج نواز شریف کیس کی سماعت بھی ہے اس لیے آج جمع نہیں کرایا، پیر کے روز ضمنی ریفرنس دائر کریں گے ۔
اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ انعام الحق کا بیان قلمبند کر لیا گیا۔ ۔ گواہ نے بتایا کہ اگست 2017 میں بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر الفلاح ہاؤسنگ سوسائٹی کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا تھا ۔ نیب کے تفتیشی افسر کے پاس پیش ہو کر بیان قلمبند کروایا ۔ سوسائٹی کے صدر کا لیٹر اور اسحاق ڈار فیملی کے ممبر شپ فارم تفتیشی افسر کو فراہم کیے ۔ تفتیش افسر کو گواہوں کی موجودگی میں ریکارڈ پیش کیا اور دستخط بھی کیے ۔
گواہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے 2004 سے 2009 تک 23 لاکھ پچاس ہزار روپے دو کنال کے پلاٹ کے لیے ممبر شپ اکاؤنٹ میں جمع کرائے ۔ تبسم اسحاق ڈار اور علی مصطفیٰ ڈار کے دو دو کنال کے پلاٹس کے لیے اتنی ہی رقم جمع کرائی گئی ۔
عدالت نے کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کر دی ۔
ادھر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نیب مقدمات کی وجہ سے ملک سے فرار ہیں ۔ احتساب عدالت نے انھیں اشتہاری قرار دیا تو انھوں نے طبی وجوہات ظاہر کیں اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے 3 ماہ کی رخصت لے لی ۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایماء پر شاہد خاقان عباسی نے اسحاق ڈار سے قلمدان واپس نہ لیا اور انھیں بیماری کے باعث 3 ماہ کی رخصت دیدی ۔
اسحاق ڈار اس وقت لندن میں زیر علاج ہیں ۔ 3 ماہ مکمل ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم اور کابینہ ان کی وطن واپسی سے بے خبر ہیں ۔
کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹفیکشن کے مطابق اسحاق ڈار کی چھٹی 22 نومبر 2017 سے شروع ہوئی تھی جو کل مکمل ہو گئی ۔ وزیر اعظم آئین کے تحت کسی بھی وزیر کو 90 روز سے زائد چھٹی نہیں دے سکتے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم 3 ماہ مکمل ہونے کے بعد اسحاق ڈار کو بچانے کے لیے کیا راہ اختیار کرتے ہیں ۔ انہیں مزید چھٹی دی جاتی ہے یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔
آئینی اور قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عدالت سے اشتہاری اسحاق ڈار کو چھٹی کی آڑ میں بچا رہے ہیں ۔ ان کے اس اقدام سے عدالتی کارروائی میں خلل پیدا ہو رہا ہے ۔