Thursday, December 1, 2022

  نوید کمانڈو کے اعتراف جرم کے بعد وزیر قانون پرلگنے والے الزامات سے متعلق کئی سوالات جنم لینے لگے

   نوید کمانڈو کے اعتراف جرم کے بعد وزیر قانون پرلگنے والے الزامات سے متعلق کئی سوالات جنم لینے لگے
فیصل آباد(92نیوز)بھولا گجر قتل کیس کے مرکزی ملزم نوید کمانڈو نے اعتراف کیا  ہے  کہ اس نے  یہ قتل رانا ثنا اللہ کے کہنے پر کیا  اور اس واردات میں رانا ثنا اللہ کا دست راست ایس ایچ او فرخ وحید بھی اس کے ساتھ تھا،ملزم کے اعتراف کے بعد وزیر قانون پر لگانے جانے والےقتل کے دیگر الزامات سے متعلق بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔ تفصیلات کےمطابق پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ پر سترہ افراد کے قتل کا الزام لگایا جارہا ہے اوریہ الزام لگانے والا کوئی اور نہیں ان کی اپنی پارٹی مسلم  لیگ ن  کے اہم راہنما اور ایک منجھے ہوئے سیاست دان  چودھری شیر علی ہیں ،چودھری شیر علی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ ہیں کہ ان کے مطابق یہ تمام سترہ قتل جعلی مقابلوں کے لئے بدنام زمانہ ایس ایچ او فرخ وحید نے کئے جسے رانا ثنااللہ کے دست راست کے طور پر جانا جاتا ہے مشکوک پولیس مقابلوں کے لئے بدنام  فرخ وحید کی ایک واردات کا  بھانڈا نوید کمانڈو کے اعترافی بیان  نے پھوڑا ہے۔ نوید کمانڈو نے  اعتراف کیا ہے کہ  اس نے بھولا گجر کو  رانا ثنا اللہ  کے کہنے پر قتل کیا  اور اس واردات میں فرخ وحید بھی اس کے ساتھ تھاملزم نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ  کو بھولا گجر سے سیاسی مخالفت کا خدشہ تھا اور  اسے راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی خدمات لی گئیں۔ سترہ افراد کے قتل کے اس الزام کی  تحقیقات  مختلف ادارے کر رہے ہیں نائنٹی ٹو بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے دیکھنا یہ ہے کہ قتل ہونے والے سترہ افراد کون تھے  کیا یہ سب  رانا ثنااللہ کے خلاف تھے  کیا  سیاسی مخالفین تھے یا کاروباری مخاصمت کا نشانہ بنے  یہ حریف جماعتوں کے لوگ تھے یا راناثناللہ کے مخالف دھڑے کے کارکن  ؟ اس معاملے  کا ایک قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ قتل کی ان تمام وارداتوں میں  ایس ایچ او فرخ وحید کا نام سامنے آرہا ہے جو  ایک بڑا سوالیہ نشان ہے دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ کیا وہ رانا ثنا اللہ کا داست راست تھا  اپنے طور پر یہ کارروائیاں کرتا رہا ہےاور فرخ وحید  کو انٹر پول کے ذریعے واپس کب لایا جائے گا نوید کمانڈو کے بیانات میں اگر سچائی ہے تو کیا اسے سلطانی گواہ بنایا جائے گا کیونکہ ایسی وارداتیں جن میں بااثر شخصیات ملوث ہوں ان میں   سلطانی گواہ ہی حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔