Sunday, September 25, 2022

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت آٹھ ہفتوں کے لیے منظور

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت آٹھ ہفتوں کے لیے منظور

 اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت آٹھ ہفتوں کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے بیس بیس لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ آ گیا۔ العزیزیہ ریفرنس میں ملزم نواشریف کی اٹھ ہفتوں کیلئے رہائی کا پروانہ دے دیا۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے طویل سماعت کی۔

عدالتی حکم پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پیش ہوئے اور جیلوں ، قیدیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ نواز شریف سروسز اسپتال لاہور میں علاج سے مطمئن ہیں۔

دوران سماعت نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ، میڈیکل بورڈ کے ارکان نے نوازشریف کی صحت کو تشویش ناک قرار دے دیا اور بتایا کہ ایک بیماری کا حل تلاش کرتے ہیں تو دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ پلیٹ لیٹس بڑھانے کی دوا دی تو نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہو گیا۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے علاج کو غیر تسلی بخش قرار دے  دیا اور نوازشریف کو انکی مرضی سے علاج کرانے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی جس کی نیب نے مخالفت کی۔

نیب نے موقف اپنایا کہ نواز شریف کو مخصوص مدت کیلئے ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹرز نے یہ نہیں کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

جسٹس محسن اختر نے کہا نیب کے سوا وفاق، صوبائی حکومت اپنے موقف میں واضح ہی نہیں۔ وہ فیصلہ ہی نہیں کر سکے کہ کیا موقف اختیار کرنا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا نواز شریف کیس میں ہمارے پاس 4 آپشنز ہیں۔ نمبر ایک نواز شریف کی مستقل ضمانت منظور کر لیں، نمبر دو مخصوص مدت کیلئے ضمانت دے دیں، نمبر تین کیس پنجاب حکومت کو بھیج دیں، نمبر چار درخواست ضمانت مسترد کر دیں ۔

خواجہ حارث نے معاملہ ایگزیکٹو کو بھیجنے کی مخالفت کی اور کہا ایک سیاسی حکومت کو یہ معاملہ بھجوانا جو ہماری شدید مخالف ہے زیادہ مناسب نہیں ہو گا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا اور قرار دیا کہ 8 ہفتے تک ملزم کا علاج نہ ہوا توصوبائی حکومت سے رابطہ کریں۔ 8 ہفتے بعد پنجاب حکومت سے رابطہ نہیں کریں گے تو جیل جانا ہو گا۔