Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

نواز شریف نااہل

نواز شریف نااہل
July 28, 2017

اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو بینچ کے تمام ججوں نے ناہل قرار دے دیا۔ وزیر اعظم نواز شریف، حسن، حسین، مریم نواز اور نواز شریف کے داماد کے خلاف ریفرنس دائر کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 21 جولائی کو 3 رکنی خصوصی بینچ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عمل درآمد بینچ کے رو برو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلہ سننے کے لیے تحریک انصاف کے رہنما وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب، عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق، عارف علوی، شیریں مزاری، شفقت محمود، بابر اعوان، فواد چودھری، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما میاں عتیق کے علاوہ دیگر سیاسی رہنما بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے تاہم چیئر مین تحریک انصاف عمران خان سپریم کورٹ نہیں آئے۔

پاناما کیس کے فیصلے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے سکیورٹی کا خصوصی پلان تشکیل دیا تھا، سیکورٹی ہائی الرٹ کی گئی اور اہم مقامات ریڈ زون اور سپریم کورٹ کے اطراف پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 3 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ۔

پولیس کے مطابق غیر متعلقہ افراد کا ریڈ زون میں داخلہ ممنوع ہے جبکہ میڈیا نمائندوں کو کوریج کے لیے خصوصی سیکورٹی پاس جاری کیے گئے۔ سپریم کورٹ کے گرد حفاظتی رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگائی گئی ہیں اور درخواست گزاروں کو اپنے ساتھ غیر متعلقہ افراد کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں ۔

سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے جاری پاسز کے بغیر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں موجود دفاتر میں کام کرنے والے افراد دفتری ریکارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔ واضح رہے کہ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے 21 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔