Monday, January 24, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں اہلخانہ و پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی

نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں اہلخانہ و پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی
January 31, 2019
لاہور ( 92 نیوز) کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کا دن  ان کے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں نے ملاقاتیں کیں ۔مریم اورنگزیب  رکشے میں ملاقات کے لئے پہنچیں تو جاوید ہاشمی کو موٹرسائیکل پر ملاقات کےلئے لایا گیا ۔ مریم نوازاپنے خاندان کے افراد کیساتھ والدسے ملنے پہنچیں تو کارکن ان کی گاڑی کے گرد جمع ہوگئے ، حمزہ شہباز بھی قیدکاٹنے والے تایاسے ملاقات کے لئے پہنچے ۔ ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے سیاسی صورتحال پر گفتگوکرتے ہوئے  کہا کہ ابھی صبر کا وقت ہے جس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ صبر میں کروں اور  مزے آپ کے ہوں گے ۔ سابق صدر ممنون حسین نےنواز شریف سے کہا کہ پہلے بھی ملاقات کیلئے پہنچا مگر ملنے نہ دیا گیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ  میں سمجھتا تھا کہ سابق وزیر اعظم کیساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے ، لیکن سابق صدر  کیساتھ بھی ایسا ہی ہے ؟۔ نواز شریف نے پارٹی کارکنوں سے بات چیت میں کہا کہ دعا کریں جلد ضمانت ہو اور میں آپ کے درمیان ہوں ، نواز شریف سنے صوفی جامی سے میاں  محمد بخش کا کلام بھی سنا ۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو  میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف ریاستی نا انصافی اور ظلم کا شکار ہیں ،انہوں نے سانحہ ساہیوال میں حکمران کے ملوث ہونے کاالزام لگایا ۔ طلال چودھری نے کہا کہ الیکٹڈ وزیر اعظم کو جیل میں ڈالا جائے گا تو سلیکٹڈ وزیر اعظم کو کون عزت دے گا۔ ملاقات سے پہلے  سابق صدر ممنون حسین نے  کہا کہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممنون حسین کا کہنا تھا کہ  نواز شریف سے عقیدت کا اظہار کرنے پہنچا ہو ، ان سے تعلق کا ایک حق ہے ادا کرنے آیا ہوں ۔ نواز شریف کی صحت اچھی نہیں  ، بورڈ  تشکیل  دیا گیا ہے  ۔ سابق صدر نے کہا کہ میرے خیال سے میں  بہت  متحرک صدر تھا ، میں نے  بطور  صدر بہت کام کئے ہیں ، بس  اپنی تشہیر نہیں کرتا تھا ، میں نے تعلیم صحت  کے شعبوں میں بہت کام کیا ہے ۔ ممنون حسین نے کہا کہ  ملک میں زبردست مہنگائی ہے ، ماضی میں کبھی اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ، عمران خان ملک ٹھیک نہیں چلا رہے ۔ حکومت کو اپنے پیغام میں ممنون حسین نے کہا کہ  ملکی معیشت کو سب سے پہلے ٹھیک کیا جائے ، غریب آدمی کا کباڑا ہو گیا ہے ، غریب پریشان ہیں ان کے لئے کام کیا جائے ۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگوں کو بے روز گار کر دیا گیا ہے ،  بس اللہ رحم کرے پاکستان کی حالت دگر گوں ہے ، بالکل بھی اچھی حالت نہیں ہے ۔ہم تو چاہتے ہیں کہ  میاں صاحب جلدی باہر آجائیں مگر ان کو اللہ کی جانب سے جلد ہی انصاف ملے گا۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ  جو کہتے تھے ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، وہ مائنس میں چل رہے ہیں۔ نوازشریف کو احتساب عدالت اسلام آباد نے العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے  7سال کی قید، 10سال کی نا اہلی اور 25ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنائی  تھی ۔ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 1.5ملین پاؤنڈ کا جرمانہ بھی کیا گیا جب کہ انہیں فلیگ شپ ریفرنس میں با عزت بری کر دیا گیا۔ عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کیس میں  نوازشریف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم  دیا تھا جب کہ ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے  دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے ۔ نوازشریف نے عدالت سے اڈیالہ کی بجائے لاہور جیل منتقل کرنے کی  درخواست کی  تھی جسے منظور  کرتے ہوئے نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ احتساب عدالت کے فیصلے  کے خلاف نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے جب کہ  اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے تک  سزا معطلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ۔