Thursday, September 29, 2022

نوازشریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

نوازشریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
 اسلام آباد (92 نیوز) نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی اور ضمانت کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹا دیا۔ العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ مجرم نوازشریف نے رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے امید باندھ لی۔ سزا معطلی اور ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دائر درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا 25 فروری کا فیصلہ چینلج کر دیا۔ درخواست میں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا۔ قانون میں دئیے گئے اختیار استعمال کرنے میں ناکام ہوئی اور سپریم کورٹ کے طے کردہ پیرا میٹر کا غلط اطلاق کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے فرض کیا کہ مجرم کو اسپتال میں علاج کی سہولیات میسر ہیں لیکن درحقیقت نوازشریف کو درکار علاج ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ انہیں سنجیدہ نوعیت کی بیماریاں ہیں، گرودوں کے امراض بھی لاحق ہیں۔ اگر علاج نہ کیا گیا تو انکی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ درخواست میں نواز شریف کی سزا معطل کر کے ضمانت رہا کرنے کی استدعا کر دی گئی۔ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کردی تھی۔ عدالت نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیس غیر معمولی نوعیت کا نہیں ہے ، نواز شریف کو علاج معالجے کی تمام سہولیات دستیاب ہیں، طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ عدالتی فیصلے میں شرجیل میمن کیس کا بھی حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ  عدالتی نظیریں موجود ہیں کہ اگر قیدی کا جیل یا اسپتال میں علاج ہو رہا ہو تو وہ ضمانت کا حق دار نہیں۔